جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 183
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 183 ۴۸ مکرم چوہدری کو خاں صاحب کی رؤیا محترم چوہدری کو خاں صاحب مرحوم آڈہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے ضلع سرگودہا کی آبادکاری کے وقت انہوں نے چک نمبر 37 جنوبی میں رہائش اختیار کی۔حضرت خلیفة اصبح الاول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے عہد میں احمدیت قبول کی۔احمدیت سے اخلاص اور اس کے لئے جوش کی وجہ سے مشہور تھے۔آپ فرماتے تھے کہ " حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی وفات کے بعد جب جماعت میں خلافت کے بارہ میں اختلاف رونما ہوا تو یہ ایام ہمارے لئے بہت صبر آزما تھے۔ایک طرف جماعت کے سرکردہ اور بااثر لوگ کہہ رہے تھے کہ جماعت کو خلافت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔دوسری طرف ہمارے سامنے رسول پاک کے بعد خلافت کی مثال موجود تھی۔لیکن منکرین خلافت کے پیدا کردہ حالات میں ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا کہ ہم کس کے ساتھ ہوں اور اس وقت جماعت کی بے کسی و بے حالی کو دیکھ کر دل بیٹھے جاتے تھے۔ان حالات نے مجھے بہت بے قرار کر دیا۔اور میں رو رو کر دعائیں کرنے لگا کہ اے مولا کریم ! تو ہی راہنمائی فرما۔اس دعا کے علاوہ مجھے کچھ نہ سوجھتا تھا۔دوسرے ہی دن جبکہ میں اس بے قراری کی حالت میں سورہا تھا۔نصف شب کی قریب مجھے گھنٹی کی آواز سنائی دی میں نے خیال کیا کہ کوئی شخص بیلوں کو ہل جو تنے کے لئے باہر لے جارہا ہو گا۔ابھی یہ آواز دھیمی ہو کر ختم ہی ہوئی تھی کہ مجھے اللہ اکبر کی بلند آواز سنائی دی، اور یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اذان دے رہا ہے مجھے تعجب ہوا کہ اتنے سویرے کس نے اذان دینی شروع کر دی۔میں حقیقت معلوم کرنے کے لئے چار پائی سے اٹھ کر جب کمرہ سے باہر آیا تو آواز غائب تھی۔اور ابھی سحری کا وقت نہ ہوا تھا۔میں کمرہ میں