جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 167
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 167 چوڑی میز ہے جس کے آگے تین کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔داہنی کرسی پر رسالدار میجرمحمد اعظم خان صاحب بہادر تشریف فرما ہیں دوسری کرسی پر جو ان کے بائیں طرف ہے اس پر بابو محمد عظیم صاحب جو خاں صاحب بہادر مذکور کے کلرک ہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔تیسری کرسی پر حضور پر نور (حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد ) تشریف رکھتے ہیں۔مجھے خواب میں ہی یہ تفہیم ہوئی کہ قرآن کریم کا پہلا درس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تھا دوسرا درس حضرت مولانا نور الدین خلیفہ اسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو) نے دیا تھا۔اور اب تیسری بار حضرت میاں صاحب درس دینے والے ہیں۔خواب میں میں نے آپ کے ہاتھ میں قرآن شریف دیکھا اور میں منبر پر چڑھ گیا اور میں نے زور سے اپنا ہاتھ منبر پر مارا اور کہا کہ بے شک تیسرے سیپارے سے درس ہونا چاہئے۔میں نے پھر آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کرزور سے کہا کہ بے شک تیسرے سپیارے سے درس ہونا چاہئے ، اور پھر تیسری دفعہ بھی اسی طرح زور سے ہاتھ مارا تو اس کی آواز نے مجھے خواب سے بیدار کر دیا جب میں خواب سے بیدار ہوا تو میری زبان پر درور شریف جاری تھا۔یہ خواب بھی میں نے حضرت سید محمود شاہ صاحب مرحوم آف فتح پور گجرات سے بیان کی۔اس کے بعد میں اپنے گاؤں سے باہر شمال کی جانب نکلا تو حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد جو آج کل ربوہ میں کتب فروش ہیں ان کے والد بزرگوار سمی حافظ شاہ محمد صاحب گجرات سے آرہے تھے۔انہوں نے کہا کہ شاہ صاحب حضرت مولوی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے میں گھر واپس چلا آیا میں نے موصولہ ٹریکٹ اور خط کو پڑھا تو میرے دل کو بہت صدمہ ہوا۔میں نے ٹریکٹ اور خط کو غصہ سے آگ میں جلا دیا اور کہا کہ مجھے کسی زید اور بکر کے کہنے کی ضرورت نہیں۔میری اللہ تعالیٰ نے خود رہنمائی فرما دی ہے میں تو حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔اس کے بعد میں نے اپنی اور اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ فاطمہ بی بی صاحبہ کی بیعت کا خط