جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 100
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 100 سامنے آیا اور اس نے کہا میں تم کو ابراہیم بتاؤں میں نے کہا میں ابراہیم کو جانتا ہوں وہ کہنے لگا۔ایک ابراہیم نہیں۔کئی ابراہیم ہوئے ہیں چنانچہ اس کے بعد اس نے کئی ابراہیم مجھے بتانے شروع کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت اس نے کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے پھر اس نے حضرت خلیفہ اول کے متعلق کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے اور آپ کا نام اس نے ابراہیم ادھم بتایا اسی طرح اور بیسیوں ابراہیم اس نے مجھ پر ظاہر کئے۔و۔" مجھے بتایا گیا کہ ایک ابراہیم تم بھی ہو۔" الفضل 09 مئی 1940 ء صفحه 3 از رؤیا وکشوف سید نامحمود صفحه 12) اب میری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی: 1910ء 1911ء کی ایک خواب اور الہی اشارہ کا ذکر تے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں در دمحسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا ہے تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا انسی احافظ کل من فی الدار یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا شاید خدا کے مسیح کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔اسی فکر میں میں کیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا۔بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں درود یوار کو دیکھتا تھا کمرے کی چیزیں نظر آرہی تھیں۔میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہا۔اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے معا بعد مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اس وقت میں نے