رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 5
10 5 اکتوبر یا نومبر میں میں نے رؤیا دیکھی کہ میں بورڈنگ کے ایک کمرہ میں ہوں یا ریویو آف ریلیجنز کے دفتر میں۔وہاں ایک بڑے صندوق پر مولوی محمد علی صاحب بیٹھے ہیں اور میں ذرا فاصلے پر کھڑا ہوں۔اتنے میں ایک دروازہ سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر داخل ہوئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میاں صاحب آپ لمبے ہیں یا مولوی صاحب ؟ مولوی صاحب نے کہا میں لمبا ہوں۔میں نے کہا میں لمبا ہوں۔شیخ صاحب نے کہا آؤ دونوں کو نا ہیں۔مولوی صاحب صندوق پر سے اترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی چار پائی سے مشکل سے اترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اترتے ہیں۔اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار ہی بول اٹھے کہ ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔میں نے کہاں ہاں میں ہی اونچا ہوں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے مولوی صاحب کر اٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔جتناوہ اونچا کرتے جاتے اسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا۔آخر بڑی وقت سے انہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو ان کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچ سکیں جس پر وہ سخت حیران ہوئے۔۔۔مولوی محمد علی صاحب کے دوستوں نے انہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالٰی نے ان کو سخت نا کام کیا حتی کہ انہوں نے اپنی ذلت کا خود اقرار کیا۔جس قدر بھی ان کے دوستوں نے جوش مارا کہ ان کو اونچا کریں اسی قدر خدا تعالیٰ نے ان کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فیصدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔بركات خلافت صفحہ 48-49) تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1914ء) 7 1903 1902 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک سٹیچو ہے جیسا کہ امرتسر میں ملکہ کا سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔اس کے اوپر ایک بچہ ہے جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بلاتا ہے۔اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے جس کے کپڑوں کے ایسے عجیب و غریب رنگ ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھے۔اس نے چبوترے پر اتر کر اپنے پر