رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 72
72 بندے ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے ورزش ضروری ہوتی ہے ورنہ دین کو نقصان پہنچتا ہے اور اگر وہ ورزش نہ کریں تو گنہ گار ہوں۔اس وقت میرے دل میں خیال گزرتا ہے کہ میں بھی تو ورزش میں سستی کر جاتا ہوں اور یہ نہیں چاہئے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1936ء صفحہ 144 نیز دیکھیں۔الفضل 2 جون 1925 ء صفحہ 2 اور منہاج العالمین (شائع کردہ الشركته الاسلامیہ ربوہ) صفحہ 70 124 $1922 فرمایا : میں نے دیکھا کہ مسجد مبارک کی چھت پر بہت شور ہے لوگ چیختے اور روتے ہیں۔میں دوڑا ہو وہاں گیا اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو کسی نے بتایا کہ قیامت آگئی۔مغرب کا وقت ہے اور کوئی سورج کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ وہ دیکھو سورج مشرق کی طرف واپس آرہا ہے اور یہ علامت قیامت کی ہے کہ سورج مغرب میں جانے کے بعد واپس لوٹ آیا ہے۔میں بھی گھبرا تا تو ہوں مگر سمجھتا ہوں کہ قیامت نہیں ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ بھائی عبدالرحیم صاحب مل رہے ہیں اور وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قیامت آگئی مگر مجھے یکدم کچھ خیال آیا اور میں ان سے کہتا ہوں کہ سورج کا مغرب سے واپس لوٹنا بھی بیشک قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت تو ہے مگر اس کے ساتھ بعض اور شرطیں بھی ہیں اور وہ اس وقت ظاہر نہیں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا مغرب سے اس وقت کا طلوع قیامت کی علامت نہیں ہے۔میں نے جونہی یہ کہا سو رج یکدم ٹھرا اور پھر واپس ہونا شروع ہو گیا۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ فتنہ جو مغرب سے اٹھا ہے امید ہے اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے گا۔الفضل 17۔جنوری 31942 نیز دیکھیں۔الفضل 17 فروری 1935 ء صفحہ 11 و 17۔فروری 1945ء صفحہ 11 125 $1922 فرمایا : عرصہ ہوا میں نے ایک رویا دیکھی تھی۔دیکھا کہ میں جرنیلوں کی چال چل رہا ہوں اور میرے پیچھے فوج چلی آرہی ہے۔ساتھ ہی توپ خانہ بھی ہے ایک شہر کا ہم نے محاصرہ کیا ہے اور میں کسی کمزور مقام کی تلاش میں ہوں۔آخر میں نے ایک جگہ کمزورپائی اور فوج کو اور توپ