رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 606
606 ہے کہ جس جگہ میں اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کھڑے ہیں وہ مسجد مبارک کے پاس دوسرے کمرے کی چھت ہے جہاں مولوی محمد علی صاحب رہا کرتے تھے اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں نیچے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ خواب بیان کروں چنانچہ میں نیچے گیا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اور بعض اور احباب بیٹھے ہیں میں نے پہلے خواب بیان کی اور کہا گنے تو منذر معلوم ہوتے ہیں آپ نے فرمایا کہ گنوں کا انذار تو کم ہوتا ہے لیکن جو دوسرے نام تم نے دیکھے ہیں وہ بہت مبارک ہیں جیسے عزیز احمد محمد عظیم اور رحمت اللہ پس ان ناموں کی وجہ سے یہ خواب آخر مبشر ثابت ہو گی۔افسوس ہے مجھے چوہدری عزیز احمد صاحب کی والدہ کا نام نہیں معلوم۔اگر ان کا نام معلوم ہوتا اور مبشر ہو تا تو خواب اور بھی مبشر ہو جاتی اگر اس جلسہ پر وہ آئیں یا ان کا کوئی بیٹا آیا تو ان سے پوچھوں گا بہر حال خواب میں جماعت کے لئے تھوڑا سا انذاری پہلو ہے مگر بشارت بہت زیادہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا چوہدری محمد حسین صاحب مرحوم جن کی بیوہ کو میں نے دیکھا بڑے تبلیغ کرنے والے تھے اور سیالکوٹ کی جماعت کا بڑا حصہ ان کی وجہ سے اور بعض اور آدمیوں کی وجہ سے احمدی ہوا ہے۔الفضل 14۔اگست 1957ء صفحہ 3 641 غالباً اکتوبر 1957ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ زمین داروں کا ایک بہت بڑا گر وہ ہے وہ زمین دارایسے ہیں جو مربعوں کے مالک ہیں وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور ان سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے میں ان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ 60 ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص سال میں ایک ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دے تو 60 لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور 60لاکھ سے ہیں مساجد بن سکتی ہے۔اس رویا سے میں نے سمجھا کہ اب خدا تعالیٰ اپنے فضل سے زمین داروں میں ہماری جماعت پھیلانا چاہتا ہے اور وہ بھی ایسے زمین داروں میں جو کم سے کم ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دے سکیں۔الفضل 7۔نومبر 1957ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔الفضل 8۔جنوری 1958ء صفحہ 6