رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 597
597 اور ان کے اندر روحانی والیت پائی جاتی تھی جس کی طرف ان شعروں میں اشارہ تھا۔میں نے جو تصرف الہی سے یہ شعر پڑھا تو اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میرے پاس لاؤ اور اگر وہ میرے ہونٹوں کو بوسہ دیں گے تو پھر ایک نئی زندگی مجھ میں پیدا ہو جائے گی اور ترقی سلسلہ اور ترقی اسلام کے ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے کہ میرے جیسا مردہ یا میرے کام جیسا مردہ پھر زندہ ہو جائے گا اور ایسی شان سے زندہ ہو گا کہ لوگ تعجب کریں گے کہ ایسا مردہ کس طرح زندہ ہو گیا مگر یہ خدائی تقدیر ہوگی اس پر تعجب کرنا غلط ہو گا پس اس کے معنے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو مجھے اسلام کی خدمت اور اس کی اشاعت کی اور زیادہ توفیق ملنی شروع ہو جاوے گی یا ممکن ہے اس میں میری صحت کی طرف اشارہ ہو۔دونوں باتیں ہو سکتی ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے دینی خدمت کی زیادہ توفیق ملنی شروع ہو جائے اور اسلام کی اشاعت کے جو کام باقی ہیں وہ میرے ذریعہ یا میرے اتباع کے ذریعے پورے ہو جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ظاہری صحت دے دے اور دین کے کام اچھی طرح ہونے لگ جائیں اور یہ بھی اس خواب میں اشارہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادیان جانے کے سامان لوگوں کے لئے پیدا کر دے۔الفضل 24۔جنوری 1957ء صفحہ 472 631 24 جنوری 1957ء فرمایا بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو میں نے پھر دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں مگر اس دفعہ میں نے اپنے آپ کو مسجد مبارک کی چھت پر نہیں دیکھا بلکہ مسجد مبارک کے مستقف حصہ میں دیکھا ہے میں جب اس کے اندر گھسا تو مجھے یوں معلوم ہوا جیسے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم خطبہ پڑھ رہے تھے مگر میں نے مسجد جس شکل میں دیکھی ہے وہ وہ تھی جو اب ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے وقت میں مسجد کی یہ شکل نہیں تھی بلکہ صرف اتنا ہی حصہ تھا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنایا ہوا تھا مولوی عبد الکریم صاحب 1905ء میں فوت ہوئے تھے اور 1907ء میں اس مسجد کی توسیع ہوئی تھی۔یہ توسیع میر ناصر نواب صاحب نے کی تھی اور اس پر انجمن کا اور میرناصر نواب صاحب کا جھگڑا بھی ہوا تھا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک تحریر لکھ کر دی تھی جس کو ہمیشہ پیغامی اس بات کی دلیل