رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 588
588 626 کتوبر 1956ء فرمایا : 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی رات خواب میں قرآن شریف کی ایک آیت کی تلاوت کرتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو دیکھا اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آیت اڑ کر میرے پاس آگئی ہے آیت کا مضمون خوش کن ہے اور جو مفہوم اس وقت میرے ذہن میں گزر رہا ہے وہ بھی خوش کن ہے۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب الفضل 4- اکتوبر1958ء صفحہ 4 627 3 نومبر 1956ء فرمایا : دو اور تین نومبر کی درمیانی رات کو میں نے رویا میں ایک نظارہ دیکھا وہ نظارہ تو مجھے بھول گیا لیکن اس سے متاثر ہو کر میں نے کچھ فقرے کہنے شروع کئے جو میری زبان پر بار بار جاری ہوئے۔آنکھ کھلی تو ساڑھے تین بجے کا وقت تھا جو پہلا فقرہ تھا وہ مجھے یا د رہا میں نے اپنی ایک بیوی کو جگا کر کہا کہ اسے یاد رکھو کہیں مجھے بھول نہ جائے اور انہوں نے لکھ لیا لیکن دوسرا فقرہ مجھے یاد نہ رہا جب میں صبح کی نماز کے لئے اٹھا تو وہ اس وقت مجھے بھول چکا تھا میں نے اس کو یاد کرنے کی کوشش کی مگروہ یاد نہ آیا ہفتہ کے روز میں لاہور چلا گیا وہاں شیخ بشیر احمد صاحب کی بھتیجیوں کی شادی تھی وہاں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو دعا کر کے سویا تو پھر پہلے فقرہ کے ساتھ ایک اور فقرہ میری زبان پر جاری ہوا اب میں نہیں جانتا کہ آیا یہ وہی فقرہ تھا جو اس سے پہلی رات میری زبان پر جاری ہوا تھا اور مجھے بھول گیا تھا یا اس کے ہم معنے یا ہم مضمون کوئی اور فقرہ ہے بہر حال چاہے وہ فقرہ وہی ہے جو پہلی رات میری زبان پر جاری ہوا تھا یا اس کا قائم مقام کوئی اور فقرہ ہے جب میں وہ فقرے پڑھتا تھا تو میرے دل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایک راستہ کھولا ہے اگر جماعت کے دوست اپنی دعاؤں میں ان دونوں فقروں کا استعمال کریں گے تو ان کی دعائیں پہلے سے زیادہ مقبول ہوں گی۔یہی سوچتے سوچتے میں فقرہ کہتا چلا گیا پھر میری آنکھ کھل گئی۔اب پہلے دن کا دوسرا فقرہ تو مجھے یاد نہیں رہا میں نے بتایا ہے کہ وہ مجھے بھول گیا تھا لیکن لاہور میں دوسری دفعہ ایک ایک فقرہ پہلے فقرہ کے ساتھ ملا کر میری زبان پر جاری کیا گیا میں نہیں کہہ