رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 585

585 آنکھوں کے سامنے جو لاہوں کی ایک لمبی تانی آئی جو بالکل سیدھی تھی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ صراط مستقیم کی مثال ہے جس کی طرف آپ کو خدا لے جا رہا ہے اور ہر فتنہ کے موقع پر وہ دیکھتا ہے کہ کیا جماعت بھی اسی صراط مستقیم کی طرف جارہی ہے یا نہیں۔تانی دکھانے سے یہ بھی مراد ہے کہ کس طرح نازک تاگے آپس میں باندھے جا کر مضبوط کپڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں یہی حالت جماعت کی ہوتی ہے جب تک ایک امام کا رشتہ اسے باندھے رکھتا ہے وہ مضبوط رہتی ہے اور قوم کے تنگ ڈھانکتی رہتی ہے لیکن امام کا رشتہ اس میں سے نکال دیا جائے تو ایک چھوٹا سا بچہ بھی اسے تو ڑ سکتا ہے اور وہ تباہ ہو کر دنیا کی یاد سے منادی جاتی ہے۔الفضل 5۔ستمبر 1956 ء صفحہ 1 623 21 ستمبر 1956ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کمرہ ہے اور اس میں ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے اس چارپائی پر ام ناصر لیٹی ہوئی ہیں اتنے میں اس کمرے میں حضرت خلیفہ اول داخل ہوئے اس وقت میرے ایک ہاتھ میں ثمر بہشت کی قسم کا ایک آم پکڑا ہوا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ آم حضرت خلیفہ اول کو کھلاؤں آم کو اپنے ہاتھ میں چکر دے رہا ہوں اتنے میں حضرت خلیفہ اول نے خواہش کی کہ مجھے کچھ کھانے کو دو جس کمرے میں ہم تھے اس کے پہلو میں ایک اور کمرہ تھا اسی طرح جیسے مسجد مبارک کے پہلو میں بیت الفکر کا کمرہ تھا اس میں ایک کھڑکی تھی میں نے وہ کھول دی اور دیکھا کہ کمرہ میں فرش بچھا ہوا ہے شاید کسی خادمہ کو میں نے اشارہ کیا تھا کہ کھانا لائے پھر حضرت خلیفہ اول کو اس کمرہ میں بیٹھنے کے لئے کہا جب آپ کھانے پر بیٹھ گئے تو میں نے دیکھا کہ ان کے پہلو میں میرا ایک چھوٹا بچہ بیٹھا ہوا ہے خواب میں میں یہی سمجھتا ہوں کہ میرا بچہ ہے گو اتنا چھوٹا بچہ اس وقت میرا کوئی نہیں۔ہاں بعض پوتے ہیں جب حضرت خلیفہ اول کھانے بیٹھے تو میں اپنے ہاتھ میں آم کو چکر دیتا رہا پھر میں نے خیال کیا کہ آپ کے سامنے ثابت آم رکھنا مناسب نہیں بلکہ کاٹ کر اس کی قاشیں رکھنی چاہئیں اور ام ناصر سے کہا کہ چھری اور طشتری منگو اؤ اتنے میں انگریزی قسم کی ایک چھری اور ایک چینی کی طشتری ان کے سرہانے نظر آئی اور میں نے آم ان کو دیا کہ اس کو کاٹ کر اس کی قاشیں کر دیں جب انہوں نے آم کی قاشیں کاٹ