رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 557
557 3 MI کی طرف روانہ ہوا اور وہ بھی میرے ساتھ چل پڑی ہاں یہ بات لکھنی میں بھول گیا کہ جب میں اس عزیزہ کا گلا دبا رہا تھا تو اس نے کہا میں تو یونہی رشتہ داروں والا مذاق کر رہی تھی جب میں باہر کی طرف آرہا تھا کہ ایک لڑکا کہ وہ بھی ہمارا ننھیالی رشتہ دار معلوم ہوتا ہے آیا اور اس نے کہا آپ کو گورنر صاحب یاد کرتے ہیں میں نے اسے کہا کہ تجھے کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ گورنر صاحب مجھے یاد کرتے ہیں۔اس نے کہا لاؤڈ سپیکر میں دو تین دفعہ آپ کے نام کا اعلان ہوا تھا اس پر میں نے دل میں خیال کیا کہ مشاعرہ ہو رہا تھا کہیں مجھے وہ یہ نہ کہہ دیں کہ اپنے شعر سناؤ میں تو مجلس میں شعر نہیں پڑھا کرتا جب میں جلسہ گاہ میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ مشاعرہ ختم ہو چکا ہے اب پہلوانوں کا ایک دنگل ہو رہا ہے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں دو جگہ مجھے دنگل ہو تا ہوا نظر آیا ایک جگہ تو میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان اور ایران کے پرانے زمانہ کے پہلوان رستم وغیرہ کشتیاں لڑ رہے ہیں اور دوسری جگہ پر موجودہ زمانہ کے آدمی۔پرانے زمانہ کے پہلوان موجودہ زمانہ کے آدمیوں سے کئی گنا بڑے معلوم ہوتے ہیں۔پہلوان اتنے دور ہیں کہ وہ اچھی طرح نظارہ نظر نہیں آسکا جب دنگل ختم ہو گئے تو گورنر صاحب اور معزز مہمان ایک بڑے ہال میں جمع ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک چائے کا کمرہ ہے میزیں اور کرسیاں لگی ہوئی ہیں میں بھی ان لوگوں میں ہوں مگر چائے کا سامان مجھے نظر نہیں آیا۔علاوہ زندہ مسلمان لیڈروں کے کچھ وفات یافتہ مسلمان لیڈر بھی وہاں موجود ہیں مثلاً سر شفیع ، مولانا محمد علی اور ڈاکٹر انصاری وغیرہ۔میز کے ارد گرد بیٹھ جانے کے بعد گورنر صاحب نے ایک نوجوان سے سوال کیا کہ سٹیشن پر تمہاری ہندوستانی نو وار دلیڈ ر سے کیا بات ہوئی تھی؟ اس نوجوان نے کہا کہ اس شخص نے مجھے کہا تھا کہ تم لوگ ذلیل ہو جاؤ گے تو میں نے اسے یہ کہا تھا کہ عزت اور ذلت تو خدا کے ہاتھ میں ہے گورنر نے اس نوجوان کے اس جواب کو بہت سراہا مگر وفات یافتہ مسلمان لیڈروں میں سے ایک لیڈر جو اس نوجوان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے اور مجھ سے تیسرے نمبر پر تھے اور جن کو میں سر شفیع سمجھتا ہوں انہوں نے کہا کہ قرآن شریف میں جو آتا ہے کہ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ اس کے یہ معنے تو نہیں ہیں کہ ہر عزت اور ہر ذلت خدا کی طرف سے آتی ہے اس کے معنے تو یہ ہیں کہ بعض لوگوں کو خدا عزت دیتا ہے اور بعض لوگوں کو خدا ذلیل کرتا ہے اس پر میں ان سے مخاطب ہوا اور میں نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن یہ بھی تو ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص