رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 554

554 دیکھا کہ قرآن کریم جس کاغذ پر لکھا ہوا تھا وہ نہایت ہی قیمتی تھا اور اس پر طلائی کام تھا اور جواہرات سے حاصل کئے ہوئے رنگوں کا کام تھا جیسا کہ تاج محل آگرہ میں ہے۔میں نے جلد کا گفتہ اٹھالیا اور تینوں قرآن کسی الماری میں محفوظ کرنے کے لئے چل پڑا اس وقت مجھے پیچھے سے حضرت اماں جان کی آواز آئی کہ میاں اگر ان قرآنوں میں سے کوئی ایسا قرآن بھی ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا لکھا ہوا نہ ہو تو میرے لئے رکھ لینا۔میں اس پر تلاوت کیا کروں گی یہ سوچ کر پہلے تو مجھے یہ تعجب ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لکھے ہوئے قرآن بھی اب تک موجود ہیں اور پھر دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کوئی ایسا قرآن کریم ملے تو میں بھی اسے دیکھوں اس کے بعد دل میں تعجب پیدا ہوا کہ حضرت اماں جان) نے یہ کیوں کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا لکھا ہوا نہ ہو تو رکھ چھوڑنا اس پر میں تلاوت کیا کروں گی ان کو تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر کوئی ایسا قرآن ہو تو میرے لئے رکھنا۔اس کے بعد معا خیال آیا کہ آپ نے یہ بات اس لئے کسی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو قرآن لکھے جاتے تھے ان پر نہ زیر زبر ہوتے تھے اور نہ نقطے ہوتے تھے اور طرز تحریر بھی جداگانہ تھی۔حتی کہ وہ خط جو آپ نے قیصر کو لکھوایا تھا اور جواب تک قسطنطنیہ میں محفوظ ہے اسے اچھے عالم بھی نہیں پڑھ سکتے پس چونکہ آپ نے تلاوت کے لئے قرآن مانگا تھا اس لئے آپ نے یہ کہہ دیا کہ پرانے زمانہ کی تحریر والا قرآن نہ ہو۔اس کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ لالہ شرم پت (حضرت صاحب کے جوانی کے زمانہ کے دوستوں میں سے تھے) کے پوتے اوم پرکاش نے امتحان پاس کر لیا ہے اور ہندو اسے سہرے لگا کر مردانہ (مرزا نظام دین صاحب کا مردانہ) میں لائے ہیں وہ لوگ مرزا بشیر احمد صاحب سے ملنے گئے ہیں (اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے مکان کے حصہ میں ہیں) اور ہندوؤں نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ اوم پرکاش پاس ہو گیا ہے اس کا منہ میٹھا کرنے کے لئے کوئی تحفہ بھجوائیں اور سہرے لگا کر اسے بٹھایا ہوا ہے میں خواب میں کہتا ہوں کہ لالہ شرم پت کا پوتا ہے اور پاس ہوا ہے اسے ضرور کوئی تحفہ دینا چاہئے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔یادر ہے کہ لالہ شرم پت کا ایک پوتا جسے میں جانتا ہوں اس کا نام راجہ رام پر کاش ہے ہندو رام کا لفظ بھی خدا کے لئے بولتے ہیں اور اوم کا لفظ بھی خدا کے لئے بولتے ہیں ممکن ہے اس