رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 549

549 لوگوں میں ڈاکٹر ا قبال صاحب مرحوم بھی بیٹھے ہوئے ہیں میں وہاں جا کر بیٹھ گیا چوہدری صاحب سے کوئی بات کرنی مجھے یاد نہیں ایک شخص کمرہ میں داخل ہوا اور اس نے ایک پلندہ ڈاک کا جو رسی سے بندھا ہوا تھا میرے سامنے رکھ دیا کہ آپ کی ڈاک آتی ہے اس پلندہ میں علاوہ پوسٹ آفس کے ذریعہ آنے والی ڈاک کے کچھ دستی رقعے بھی ہیں جو معلوم ہوتا ہے دفتر نے ڈاک کے ساتھ رکھ دیئے ہیں ان دستی خطوں میں سے ایک خط جو میں نے کھولا تو اس میں ایک روپیہ کے چند نوٹ نکلے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کسی نے نذرانہ کے طور پر دیئے ہیں چونکہ کئی لفافے ایک ہی شکل کے تھے میں نے سمجھا ان سب میں کچھ رقم نذرانے کی ہے میں وہاں سے اٹھ کر اپنے ویٹنگ روم کی طرف چل پڑا۔اس ویٹنگ روم کے سامنے چند احمدی لیٹے ہوئے تھے جن میں ایک بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی بھی تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر کہا کہ یہ ڈاک آپ مجھے پہنچا دیں اور خود اپنے ویٹنگ روم کی طرف چل پڑا۔جب میں واپس جا رہا تھا تو ایک پولیس کا افسر مجھے ملا اور اس نے کہا کہ ہمیں رپورٹ ملی ہے کہ یہاں جو آبہت کھیلا جاتا ہے اور آپ کی نسبت بھی رپورٹ ملی ہے کہ آپ نے جو آکھیلا چنانچہ آپ کی جیب میں کچھ روپیہ ہے وہ کہاں سے آیا ہے میں نے کہا کچھ لوگوں نے نذرانہ دیا ہے وہ میری جیب میں ہے اس نے کہا اگر نذرانہ ہوتا تو کچھ چاندی کے روپے بھی ہوتے یہ تو سب نوٹ ہیں اس پر میں نے کہا کہ میں نذرانہ والے کو کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ تم بیچ میں چاندی کے روپے بھی دو یہ کہہ کر میں ویٹنگ روم میں گھس گیا۔دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے بھائی عبد الرحمان صاحب نے مجھے لا کر ڈاک دے دی اور جن لفافوں کے متعلق میں سمجھا تھا کہ ان میں نذرانہ ہے وہ میں نے جیب میں ڈال لئے جیب میں ڈالتے ہی وہ لفافے آپ ہی کھل گئے اور ان میں سے روپے اچھل کر میری جیب میں آپڑے ان میں سے کچھ چاندی کے معلوم ہوتے ہیں اور کچھ نوٹوں کی صورت میں۔کچھ دیر کے بعد پھر ویٹنگ روم سے نکلا تو اس پولیس افسر نے پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا ہمیں رپورٹ ملی ہے کہ آپ نے جو آکھیلا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں ہم آپ کا بیان لینا چاہتے ہیں وہ شخص مجھے اپنے ساتھ لے کر چلا اور میرے دل میں خواہش ہوئی کہ میں جماعت احمدیہ کو اس واقعہ کی اطلاع دے دوں چلتے چلتے تین جگہ پر ہم لوگوں کے ہجوم میں سے گزرے ہر ہجوم میں سے گزرتے ہوئے میں نے لوگوں کو