رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 510

510 آپ کو ایک ایسا بیٹا ملا ہے جو روحانی آسمان پر ستارہ بن کر ایسا چمک رہا ہے کہ کوئی ایسا کیا چمکے گا" اس کے بعد حضرت اماں جان) میری طرف مخاطب ہوئیں اور کہا بس۔”بس" کے لفظ کے آگے انہوں نے کچھ نہیں کہا لیکن اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ ”بس " کا لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے ایک بات کے خاتمہ پر اور ایک بات کے ابتداء میں۔تو وہ ”بس “ جو انہوں نے استعمال کیا ہے وہ بات کے خاتمہ کا نہیں جیسے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں۔بس۔بلکہ یہ بس وہ ہے جو ابتداء میں استعمال ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں ”بس بات تو یہ ہے کہ “ اس ”بس " کے معنے خلاصہ کلام کے ہوتے ہیں خاتمہ کلام کے نہیں ہوتے تو میں ذہن میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ بس خلاصہ کلام کے معنوں میں ہے۔خاتمہ کلام کے معنوں میں نہیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔دوا آج کل احرار وغیرہ چونکہ شور مچاتے رہتے ہیں ممکن ہے اس رویا کو بھی کوئی غلط رنگ دے کر وہ لوگوں کے سامنے پیش کریں اس لئے میں ایسے بے دینوں کے لئے نہیں کیونکہ ان کے اندر سے حیاء اور شرم بالکل جاتی رہی ہے مگر صرف شریف لوگوں کے لئے کہتا ہوں کہ یہ جو الفاظ ہیں کہ کوئی ایسا کیا چمکے گا اس میں ستاروں کی طرف اشارہ ہے کوئی خبیث الفطرت آدمی اس کو محمد رسول اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کے غلط معنے نہ لے لے۔محمد رسول اللہ کا نام قرآن کریم میں سورج آتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع آگے ستارے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس رویا میں یہ خبر دی ہے کہ اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں سے جو نور اور روشنی مجھے ملی ہے وہ کسی اور کو نہیں ملی اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص مدعی ہے تو وہ آگے آئے اور بتائے کہ اس کو اسلام کی خدمت اور قرآن کریم کی اشاعت کے لئے کیا توفیق ملی اور اس کے ذریعہ کتنے آدمی اسلام میں داخل ہوئے اگر کوئی اس بات کو ثابت کر دے تو بیشک اس کا دعوی سچا ہو گا ورنہ اس کو ماننا پڑے گا کہ اس زمانہ میں اسلام کی اشاعت اور اس کی خدمت کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ہی وجود کو مخصوص کیا ہوا ہے اور میرے مقابلہ میں کوئی گھر نہیں سکتا، ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ الفضل 9۔جولائی 1952 ء صفحہ 34