رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 506
506 جہاں وہ سانپ چھپا ہے پاؤں ان کے بھی ننگے ہیں۔جوتی انہوں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے۔وہ جوتی سے بے تحاشا اس جگہ پر مارتے ہیں جہاں سانپ کو چھپا ہوا سمجھتے ہیں۔میں کہتا ہوں دیکھو جوتی پہن لو۔ایسا نہ ہو سانپ تمہیں کاٹ لے اور ان کے ساتھ میرا ایک لڑکا بھی جو چودہ پندرہ سال کی عمر کا معلوم ہوتا ہے ایک چھوٹی سی سوئی کے ساتھ اس کو پیٹ رہا ہے۔اتنے میں شیخ نور الحق صاحب نے کہا۔میں نے سانپ مار لیا ہے مگر جو سانپ انہوں نے مارا ہے وہ معمولی سانپ دو تین فٹ کا معلوم ہوتا ہے اس پر میں نے ان سے کہا کہ یہ وہ سانپ نہیں وہ سانپ تو بڑا تھا۔ذرا میلے کپڑوں سے ہوشیار رہو ایسا نہ ہو کہ وہ میلے کپڑوں کے ڈھیر میں چھپ گیا ہو یا کسی کو نہ میں چھپا ہوا ہو کوئی مضبوط سونٹا پکڑ کر اس کی تلاش کرو اس وقت مجھے سانپ کے چھو جانے کی وجہ سے وہم سا پڑتا ہے کہ سانپ نے مجھے کاتا ہے لیکن ساتھ ہی میں کہتا ہوں کہ ایڑی پر کوئی زخم تو نظر نہیں آتا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 27۔جنوری 1952ء صفحہ 4-3 545 22 جنوری 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ کراچی کا کوئی اخبار ہے جو کسی دوست نے مجھے بھیجا ہے اور اس میں کچھ باتیں احمدیت کی تائید میں لکھی ہوئی ہیں اس اخبار پر سرخ سیاہی سے اس دوست نے نشان کر دیا ہے تاکہ میں اس کو پڑھ سکوں اس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اخبار کے اوپر کے حصہ میں چار کالموں میں چار قطعات دو دو شعر کے چھپے ہوئے ہیں اور اچھے اچھے موٹے موٹے حروف میں لکھے ہوئے ہیں مضمون تو میرے ذہن میں نہیں ہے مگر وہ طریقہ پسند آیا اور میں نے چاہا کہ میں بھی ایک قطعہ لکھوں اس پر میں نے رویا میں ایک قطعہ کہنا شروع کیا جو یہ ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں کہ اے حضرت لولاک ہوتے نہ اگر آپ تو بنتے نہ یہ افلاک ہے جو آپ کی خاطر ہے بنا آپ کی شئے میرا تو نہیں کچھ بھی یہ ہیں آپ کی املاک یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں میں یہ شعر کہتا جاتا ہوں گویا اس جگہ پر یعنی اسی اخبار میں