رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 470

470 ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ قرآن کریم کی بہت سی تعلیم بائیل سے ملتی جلتی ہے پھر اس کی فضیلت کیا ہوئی اس خیال کے پیدا ہونے پر میں نے بڑے جوش سے ان کے سامنے تقریر شروع کی کہ بائبل میں جو یہ صفات آئی ہیں ان سے قرآنی صفات کو امتیاز حاصل ہے بائبل میں محض رسمی ناموں کے طور پر وہ صفات بیان کی گئی ہیں اور قرآن کریم نے ان صفات کی باریکیوں کو بیان کیا ہے اور ان مضامین میں وسعت پیدا کی ہے اور ان کے راز بیان کئے ہیں چنانچہ میں نے کہا دیکھو رب کا لفظ ہے بائبل نے بھی خدا تعالیٰ کو پیدا کرنے والا یا پالنے والا کہا ہے یا زمین و آسمان کا رب کہا ہے لیکن قرآن کریم یہ نہیں کہتا بلکہ قرآن کریم سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ کو رب AT WALLULANA کے طور پر پیش کرتا ہے اور لفظ رَبِّ اور لفظ العالمين دونوں اپنے اند ر امتیازی شان رکھتے ہیں۔رب صرف اس مضمون پر ہی دلالت نہیں کرتا کہ وہ پیدا کرنے والا ہے اور پالنے والا ہے بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب طور پر اس کی باریک دربار یک قوتوں اور طاقتوں کو درجہ بدرجہ اور مناسب حال ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور عالمین کا لفظ محض زمین و آسمان پر دلالت نہیں کرتا بلکہ زمین و آسمان کے علاوہ مختلف اجناس کی مختلف کیفیتوں پر بھی دلالت کرتا ہے اور یہ مضمون پہلی کتب میں بالکل بیان نہیں ہوا مثلاً عالمین میں جہاں یہ مراد ہے کہ اس جہان کا بھی رب ہے اگلے جہاں کا بھی رب ہے آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمینوں کا بھی رب ہے وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم اجسام اور عالم ارواح اور عالم نساء اور عالم رجال اور پھر عالم فکر اور عالم شعور اور عالم تصور اور عالم تقدیر اور عالم عقل ان سب کا بھی وہ رب ہے یعنی وہ صرف روٹی ہی مہیا نہیں کرتا وہ صرف انی چیزوں کو مہیا نہیں کرتا جو جسموں کو پالنے والی ہیں بلکہ وہ ارواح کے پالنے کا بھی سامان کرتا ہے اور پھر مختلف تقاضے جو انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے نشو و نما کے لئے اس نے قرآن کریم میں تعلیم دی ہے چنانچہ اس قسم کے مضمون پر تفصیلی لیکچر ان کے سامنے دے رہا ہوں اور خود مجھے نہایت لذت اور سرور حاصل ہو رہا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ ایک نیا مضمون اور نئی کیفیت میرے اندر پیدا ہو رہی ہے یہی لیکچر دیتے دیتے میری آنکھ کھل گئی۔فی الواقع ایک نیا نقطہ نگاہ جس کے ذریعہ سے رَبُّ الْعَالَمِینَ کی آیت کی تفسیر ایک نئے