رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 471

471 رنگ میں اور نئے اسلوب سے کی جاسکتی ہے جو نہایت بصیرت افروز اور علم پیدا کرنے والی ہوگی۔الفضل 29 مارچ 1951 ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ دوم 197 - 196 مارچ 1951ء 517 فرمایا : میں نے ایک رویا دیکھی ہے جس کی تفصیل کا بیان کرنا مناسب نہیں مگر ریکارڈ میں لانے کے لئے اس کے بعض حصوں کو مبہم کرتے ہوئے اس جگہ بیان کرتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ پاکستان سے باہر دنیا کے کسی ملک کا ایک حصہ ہمارے قبضہ میں آیا ہے یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا پاکستان کی فوجوں نے اسے فتح کیا ہے یا تبلیغ کے ذریعہ سے ہم نے اس ملک کے حاکم عصر کو اپنے تابع کر لیا ہے بہر حال وہ حصہ ہمارے قبضہ میں آیا اور میں سمجھتا ہوں کہ گویا اس کا انتظام میرے سپرد ہے۔میں اس انتظام کے متعلق جو میں وہاں جاری کرنا چاہتا ہوں اپنے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کر رہا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میں فلاں قوم کے لوگوں کو ( قوم مجھے معلوم ہے مگر میں اس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا ) اکٹھے گاؤں دار بساؤں گا اور فی گھر پندہ پندرہ ایکٹر زمین دوں گا اور کاشت کا انتظام ایک خاص قانون کے ماتحت کروں گا جس میں باہمی تعاون کا رنگ پایا جائے گا۔جب میں یہاں تک پہنچا تو کسی شخص نے اعتراض کیا کہ یہ دونوں باتیں آپ کی تشریحات اسلامیہ کے خلاف ہیں۔ہر خاندان کو پندرہ ایکٹر زمین دینے کے معنے یہ ہیں کہ بعض کی زمینیں چھین کر آپ بعض دوسروں کو دے دیں گے اور تعاون با ہمی کا نظام قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی مالکانہ آزادی میں دخل اندازی کریں گے اور یہ دونوں باتیں آپ کی اس تشریح کے خلاف ہیں جو آپ اسلام کے متعلق پہلے بیان کرتے رہتے ہیں۔میں نے اس کے جواب میں کہا کہ آپ لوگ میرا مطلب نہیں سمجھے۔یہ علاقہ تو ہمارا مفتوحہ ہے اس لئے اس کی جائیدادیں تو ہماری جائیدادیں ہیں پس ہم کسی کی جائیداد نہیں چھینیں گے ہم تو اپنی جائیداد اس اصول کے ماتحت لوگوں میں تقسیم کریں گے اور جب ہم کسی شخص کو کوئی چیز دیتے ہیں تو ہمیں اختیار ہوتا ہے کہ ہم اپنے دیئے ہوئے ہدیہ کے متعلق کچھ شرائط بھی لگا دیں پس اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ یہ میری بیان کردہ تشریح اسلام کے خلاف بات ہے کیونکہ میری تشریح تو ذاتی ملکیتوں کے بارہ میں ہے اور یہ کسی دوسرے کی ذاتی ملکیت نہیں ہو گی بلکہ ہماری دی