رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 429

429 جیسا کہ پیشگوئی میں تھا آپ کی تائید میں سکھوں کو مخاطب کر کے ایک تقریر کروں گا۔میں نے اسے کہا کہ ہاں ہاں۔وہ نشان میری پیٹھ پر موجود ہے اور رویا میں مجھے خیال آتا ہے کہ پہلے نبیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کے نشان کی پیشگوئی کی تھی جسے اب نشان خاتم النبین کہتے ہیں اسی طرح سکھ گوروؤں نے بھی سکھوں کی اصلاح کے متعلق ایک آدمی کی آمد کی پیشگوئی کی تھی اور اس کا نشان بھی بتایا تھا جو اس کی پیٹھ پر ہو گا اور وہ میری پیٹھ پر ہے۔تب میں نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھا دیا اور اس شخص نے وہ نشان دیکھا اور تصدیق کی کہ واقع میں نشان موجود ہے۔تب اس شخص نے چاہا کہ وہ کھڑا ہو کر سکھ قوم کو مخاطب کر کے کچھ شہد پڑھے جن میں ان کو سچائی کے قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے میں نے اسے کہا کہ میرے پہلو میں آکر کھڑے ہو جاؤ اور شہید پڑھو۔انہوں نے کہا کہ پیشگوئی میں تو یہ آتا ہے کہ اس پیٹھ کے نشان کے پیچھے کھڑا ہو کر وہ اعلان کرے گا۔میں نے اسے جواب دیا کہ اب جبکہ تم نے وہ نشان دیکھ لیا ہے تم میرے پہلو میں بھی کھڑے ہو تو وہ پیٹھ کے پیچھے ہی کہلائے گا گویا میں اس پیشگوئی کی تاویل یہ کرتا ہوں کہ اس نشان کو دیکھ کر اور نشان والے کو مان کر وہ یہ اعلان کرے گا تب اس شخص نے میرے پہلو میں کھڑے ہو کر بلند آواز سے سکھ قوم کو مخاطب کر کے کچھ شہد پڑھنے شروع کئے۔وہ پرانی سکھی زبان میں ہیں جیسا کہ گرنتھ کی زبان ہے میں اس زبان کو سمجھتا نہیں لیکن اس شخص کے اندر جوش پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ بلند آواز سے شہد پڑھتا چلا جاتا ہے اور میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ پنجاب میں سکھ اس آواز کو سن رہے ہیں اور ان تک اس ذریعہ سے تبلیغ پہنچ رہی ہے۔الفضل 25۔نومبر 1949ء صفحہ 3-2 479 جون 1949ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور مسجد مبارک کے اوپر کے صحن میں ہوں اس وقت مسجد مبارک کی وہی وسعت معلوم ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھی اور اس قسم کی شاہ نشین اس پر بنی ہوئی ہے اس شاہ نشین پر بیٹھے ہوئے میں نیچے دیکھ رہا ہوں اور میری نظر اس کمرہ پر ہے جس میں اب ہماری گیراج تھی مگر کسی زمانہ میں وہاں ضیاء الاسلام پریس کام کرتا تھا جو حضرت خلیفہ اول کے مطلب گاہ اور کتب خانہ احمدیہ کے