رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 421

421 انہوں نے کہا کہ اس لڑکے کے چہرے سے واقعہ میں حیا اور شرم کے آثار پائے جاتے ہیں اور شریف الطبع نوجوان معلوم ہوتا ہے اللہ بہتر جانے کہ رویا میں مجھے اس نوجوان کا جانا کیوں دکھایا گیا۔الفضل 19 - دسمبر 1948ء صفحہ 4-3 467 دسمبر 1948ء فرمایا : جب عزیزم میجر محمود شہید ہوئے تو میں نے دیکھا جیسے ہمارے گھر کے پاس ایک مشتبہ شخص کو پکڑے ہوئے پولیس سوال کر رہی ہے اور شاید کچھ سختی بھی کر رہی ہے اور اس شخص کی آواز آرہی ہے ”قاضی " " قاضی " اور "رمضان" "رمضان" دوسرے دن پولیس کے کچھ افسر مجھے ملے جن میں سے دو کے نام سے پہلے قاضی آتا ہے تب میرے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ خداتعالی ہی رحم کرے۔شاید اس طرف اشارہ ہے کہ بعض پولیس کے افسر ہی اس کیس کو دبانے کی کوشش کریں گے اور اس طرح اس جرم میں شریک کار ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک اس کیس کے متعلق کوئی تحقیق نہیں ہوئی اور نہ ہی سراغوں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی گئی۔الفضل 19۔دسمبر 1948ء صفحہ 4 468 15۔دسمبر 1948ء فرمایا : انہی ایام میں میں نے دیکھا کہ جیسے کسی وزیر نے تقریر میں یہ لفظ بولے ہیں کہ ہم پاکستان کو ہندوستان کے فتح کرنے کا اڈہ بنائیں گے اس پر محترم لیاقت علی خان صاحب وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کے ذریعہ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔الفضل 19۔دسمبر 1948ء صفحہ 4 469 15۔دسمبر 1948ء فرمایا : انہی ایام میں میں نے دیکھا کہ میں قادیان گیا ہوں اور حضرت (اماں جان) کے گھر کے حصہ کی طرف سے دفتر آ رہا ہوں جب میں دفتر کے قریب پہنچا تو کسی بچے نے مجھے کہا کہ بلی آپ کو سلام کرنا چاہتی ہے میں نے سمجھا کسی بچے نے بلی پالی ہوئی ہے اور وہ اس کا کوئی تماشہ دکھانا چاہتا ہے۔جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بلی کو اس بچے نے زمین پر رکھا مگر اس بلی کا قدم ایک چڑیا