رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 422

422 کے برابر ہے اس کے پر بھی ہیں وہ پر پھیلا کر دو پیروں کے اوپر ناچتی ہے اور کبھی اڑتی ہے۔ایک دفعہ اڑ کر میرے کندھے پر آبیٹھی اس کے بعد اس قسم کی ایک اور ہلی سامنے نمودار ہوئی۔میں اس جگہ سے ہٹ کر دفتر کی طرف گیا تو میرے پیچھے پیچھے میری ایک بیوی اور ایک لڑکی آئیں اور انہوں نے کہا کہ کچھ عورتیں اور لڑکیاں آپ سے ملنا چاہتی ہیں میں نے اجازت دی تو کچھ عورتیں جو طالب علم معلوم ہوتی ہیں آئیں اور انہوں نے ایسی کاپیاں پیش کی ہیں جیسے تصویر کے البم ہوتے ہیں جن پر نہایت خوبصورت نقش بنے ہوئے ہیں پہلے میں نے ایک لڑکی کی کاپی دیکھی اور جب واپس کرنے لگا تو اس نے کہا۔نہیں۔یہ میں آپ کے لئے بطور تحفہ لائیں ہوں اس کے بعد دوسری لڑکیوں نے بھی اپنی اپنی کاپیاں میرے سامنے رکھ دیں اتنے میں کچھ مردوں کی طرف سے اطلاع آئی کہ وہ ملنا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو اجازت دی اور لڑکیاں وہاں سے چلی گئیں اور مردان کی جگہ پر آگئے ان لوگوں نے بھی کچھ تختیاں میرے سامنے پیش کی ہیں جو ایسی شکل کی ہیں جیسے قرآن شریف رکھ کر پڑھنے والی رملیں۔میں نے دیکھا کہ ان پر بھی نہایت خوبصورت کام کیا ہوا ہے۔جیسے تاج محل میں سنگ مرمر پر خوبصورت کام کیا ہوا۔ویسا ہی خوبصورت کام ان پر ہے میں ان کو دیکھ کر تعریف کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔شاید اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے بعض نوجوان مردوں اور عورتوں کو ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو نہایت ہی خوبصورت اور اعلیٰ درجہ کے ہوں۔الفضل 19۔دسمبر 1948ء صفحہ 4 470 16/15۔دسمبر 1948ء فرمایا : آج رات میں نے (بدھ اور جمعرات یعنی پندرہ سولہ دسمبر کی درمیانی رات کو دیکھا کہ گویا خدا تعالی یا کسی فرشتے نے کوئی سوال کیا ہے۔جس کے جواب میں میں نے یا کسی اور خدا تعالیٰ کے بندے نے ایک فقرہ کہا ہے جو ایک لطیف اور موزوں مصرعہ بن گیا ہے مجھے وہ مصرعہ یاد نہیں رہا۔اس کا مفہوم قریباً یہ تھا کہ دیکھ ”تیرے " یا " اس کے بندے کس طرح آرام میں رہتے ہیں میں اس مصرعہ کو بار بار دہرا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔اور اس وقت یہ مصرعہ خوب یاد تھا مگر صبح کے وقت بھول گیا عجیب بات ہے کہ آج کل صحت کی خرابی جماعتی مشکلات اور بعض پریشانیوں کی وجہ سے طبیعت مضمحل تھی۔ایسے وقت میں یہ