رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 405
405 فَبِأَيِّ الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبُنِ (الرحمن : (14) اس کے علاوہ عَيْنِ نَضَّاخَتْنِ (الرحمن : 67) کے لفظ بھی یاد ہیں اور بھی بعض آیتوں کے الفاظ یاد تھے مگر وہ جاگنے کی حالت میں بھول گئے وہ آیتیں یاد نہیں رہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ تو انسان کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے معمور کرنا چاہتا ہے مگر انسان اپنی غفلتوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے اس انعام سے محروم رہ جاتا ہے اور اس کو ضائع کر دیتا ہے۔الفضل 4۔فروری 1948ء صفحہ 6 جنوری 1948ء 449 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جلسہ میں تقریر کر رہا ہوں اور مغربی پنجاب کے لوگ میرے مخاطب ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اسلام کے معنی ہی امن دینے کے ہیں اس لئے مسلمانوں کو اسلام کے نام کا ادب کرتے ہوئے غیر مسلموں کو اپنے ملک میں امن دینا چاہئے اگر یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کو مشرقی پنجاب میں امن حاصل نہیں تو یہ خطرہ اس بات کا موجب نہیں ہونا چاہئے کہ مسلمان اپنے علاقہ میں ہندوؤں اور سکھوں کو قتل کریں یا انہیں امن سے نہ رہنے دیں مسلمان کا بہر حال فرض ہے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے علاقہ میں غیر مسلموں کی جان کو خطرے میں نہ پڑنے دے اگر غیر مسلم اسے کسی دوسری جگہ قتل بھی کرتے ہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ جب ایک عام آدمی بھی اپنے کارندے کی حفاظت کرتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے تو مسلمان اگر خدا تعالی کے حکم کے ماتحت غیر مسلموں کے جان ومال کی حفاظت اس ملک میں کریں گے تو خدا تعالی خود دوسرے علاقہ میں ان مسلمانوں کی جان اور ان کے مال کے نقصان کا بدلہ لے گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ مسلمان خداتعالی کی تعلیم پر عمل کریں اور پھر گھاٹے میں رہیں۔الفضل 27۔جنوری 1948ء صفحہ 5 جنوری 1948ء 450 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں بیٹھا ہوا ہوں اور میری دائیں طرف ایک اور احمدی بیٹھے ہیں جہاں تک میرا حافظہ کام دیتا ہے وہ قاضی محبوب عالم صاحب ضلع گوجرانوالہ کے معلوم ہوتے