رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 406
406 ہیں۔وہ مجھ سے کہتے ہیں آپ کی شکل بعض دفعہ بالکل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتی ہے۔پہلے بھی آپ کی شکل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتی تھی اور اب پھر مجھے بالکل انہی کی طرح آپ کی شکل نظر آتی ہے۔الفضل 27۔جنوری 1948ء صفحہ 5 451 جنوری 1948ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ جس مکان میں ہم اب ہیں اس کی اوپر کی منزل کے برآمدہ میں ایک سانپ کوئی ڈیڑھ گز کا پڑا ہے۔اچھا موٹا سانپ ہے اس کی اوپر کی کھال کا رنگ سبز ہے اور نیچے کی کھال کا رنگ بھو سلا ہے۔اس کے ارد گرد تین آدمی کھڑے ہیں جن کے ہاتھوں میں سوئیاں ہیں۔میں اپنے کمرے میں شور سن کر باہر نکلا اور اس سانپ کو دیکھا اس کے دائیں بائیں چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے اون کے گولے ہوتے ہیں پڑی ہوئی ہیں ان کی شکل اور قد بالکل ایسے ہیں جیسے پہلے دن کے مرغی کے بچے ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ مرغی کے بچے ہمارے عزیز ہیں خاص طور پر یہ ذہن میں نہیں کہ یہ ہمارے خاندان میں سے ہیں یا احمدی ہیں یا دوسرے مسلمان فرقوں میں سے ہیں۔صرف میں ان کو عزیز خیال کرتا ہوں جس دائرہ میں کہ دوسرے مسلمان کہلانے والے لوگ بھی آجاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جن کے ہاتھ میں سوٹیاں ہیں وہ اس سانپ کو مارنا چاہتے ہیں لیکن اس ڈر کے مارے پوری ضرب نہیں لگاتے کہ کہیں ان بچوں کو نقصان نہ پہنچ جائے جس طرح ان چھوٹے چھوٹے چوزوں کو میں آدمی سمجھتا ہوں اور اپنے عزیز وجود سمجھتا ہوں اسی طرح رویا میں میں اس سانپ کو ایک ریاست کا مہاراجہ سمجھتا ہوں اور خواب میں مجھے اس بات پر کوئی تعجب نہیں آتا کہ یہ سانپ مہاراجہ کس طرح ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے اون کے گولے میرے عزیز کس طرح ہیں۔مجھے اس طرح یہ بات طبیعی معلوم ہوتی ہے جیسا کہ وہ انسانی شکلوں میں ہوں۔میرے ہاتھ میں بھی سوئی ہے میں نے ان دوسرے ساتھیوں سے مل کر اس سانپ کو مارنا شروع کیا لیکن ہر دفعہ اس احتیاط سے ضرب لگائی کہ کہیں بچوں کو نقصان نہ پہنچ جائے آخر میں نے یا کسی اور نے (کہا) کہ سانپ مارا گیا۔الفضل 27 جنوری 1948ء صفحہ 5