رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 374
374 لیکن بعض ضروری باتوں کے متعلق میں اسے سمجھانا چاہتا ہوں۔میں نے چار باتیں بتائی ہیں کہ فلاں قسم کی دوائی استعمال کی جائے اور فلاں فلاں باتوں کی طرف خاص خیال رکھا جائے۔بیان کرنے کے بعد میں اسے کہتا ہوں کہ جو باتیں میں نے تمہیں بتائی ہیں وہ دہراؤ اس نے ان باتوں کو دہرایا ہے لیکن ایک بات رہ گئی ہے میں اسے کہتا ہوں کہ ایک بات رہ گئی ہے اور اس کا خیال رکھنا ضروری ہے ابھی میں نے اپنی بات پوری نہیں کی کہ میرے سامنے ایک نوجوان کھڑا ہو کر او بو یہ کہتا ہے کہ آپ کا مطلب یہی ہے نا کہ ان تینوں باتوں پر عمل کرنے کے علاوہ جو بیمار ہو اس کے متعلق آپ کو اطلاع دی جائے اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ چوتھی بات جو وہ بھول گیا ہے وہ یہی ہے کہ مجھے دعا کے لئے بھی لکھا جائے۔چنانچہ میں نے اس شخص سے کہا کہ ٹھیک ہے یہی میرا مطلب ہے میں توجہ دلا رہا ہوں کہ دعا بھی ضروری چیز ہے اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔بیداری کے بعد مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بائیں ہاتھ میں ایک دوائی کی شیشی ہے اس کا کارک کھلا ہوا ہے اور وہ دوائی سرخ رنگ کی ہے اس کے بعد یہ حالت جاتی رہی۔تعبیر کرتے ہوئے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ کسی وباء کے پھیلنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ دوا کے ساتھ دعا کو بھی شامل رکھنا چاہئے اور اسے بھی ضروری سمجھنا چاہئے۔الفضل 20۔مارچ 1947ء صفحہ 1 418 مارچ 1947ء فرمایا : آج میں نے ایک رؤیا دیکھا ہے بظاہر اس کے مضامین ایسے ہیں جو کہ قابل اعتراض نظر آتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ دشمن اس کی ہنسی اڑائے لیکن اس کی ہنسی کی ہمیں پرواہ نہیں اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے بعض علمی مضامین کی طرف اشارہ فرمایا ہے لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق حقائق کے مختلف معیار اپنے ذہنوں میں مقرر کئے ہوئے ہیں جب کوئی بات ان کے علم کے مطابق نہ ہوا سے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔اس رویا میں اللہ تعالیٰ کی رحمیت کی صفات کی طرف لطیف رنگ میں اشارہ کیا گیا ہے۔وہ رو یا دنیوی زندگی کی مشکلات اور کامیابیوں کے رستے کا ایک روحانی نقشہ ہے اور اس میں جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے حالات پر روشنی ڈالی ۱۱