رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 333

333 طرف اشارہ کیا کہ ادھر۔میں نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا ہے اس پر میں اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک گلی میں سے ہوتے ہوئے شہر کے اندر گھس گیا۔وہاں میں نے ایک وسیع بازار دیکھا جو بڑے شہروں کے بازاروں سے ملتا ہے اس بازار کو دیکھ کر پھر مجھے یہی خیال آتا ہے کہ یہاں سب ہندو ہی ہندو ہیں کوئی مسلمان نہیں۔اس وقت میں نے مختلف لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا کہ کیا انہوں نے ایسے ایسے لباس والے شخص کو دیکھا ہے اکثر لوگوں نے انکار کیا مگر ایک شخص جو کچھ فاصلہ سے آیا ہے اس نے ایک بڑی بھاری عمارت کی طرف اشارہ کر کے جو چھ سات منزل کی ہے اور بڑی دور تک چلی گئی ہے جیسے بمبئی وغیرہ میں یا یورپین شہروں میں فلیٹس کی عمارت ہوتی ہے کہا میرا خیال ہے کہ وہ شخص اس میں ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ اسے کس طرح معلوم ہوا ہے تو اس نے کہا میں نے دیکھا تو نہیں لیکن وہ یہ عمارت ہے جس میں سے متفرق اوقات میں لاشیں نکلی ہیں۔اب آپ نے جو کہا کہ وہ شخص واپس نہیں لوٹا تو میں قیاس کرتا ہوں کہ وہ اسی عمارت میں گیا ہے اس بات کو سن کر میرے دل میں نہایت ہی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور میں نے اپنے ساتھیوں کو اس عمارت کے گرد گھیرا ڈال لینے کا حکم دیا۔اس وقت میرے ساتھی تعداد میں زیادہ معلوم ہوتے ہیں اتنے میں پولیس بھی آگئی اور انہوں نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا بات ہے۔کچھ ہمارے گھر کی مستورات بھی اس وقت پاس کھڑی ہیں۔میں نے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر انہیں اشارہ کیا کہ وہ پرے چلی جائیں۔یہ انتظام کر کے میں عمارت میں داخل ہونے لگا ہوں اور دل میں یہ دعا کر رہا ہوں کہ اگر وہ شخص نہیں گیا ہے اور دشمن کے ہاتھ میں پھنس گیا ہے تو خدا کرے وہ زخمی ہو۔مرا نہ ہو اس پر میری آنکھ کھل گئی اور بے اختیار میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى اَذْهَبَ عَنِى الْحُزْنَ وَايْقَظَنِى مِنَ النَّوْمِ مگر اس وقت کامل بیداری ہو چکی تھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فقرہ الہامی تھایا بیداری کی دعا تھی۔ہاں بے سوچے سمجھے یہ فقرہ جاری ہو ا تھا۔الفضل 23 اگست 1946ء4-3 اگست 1946ء 397 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں اور میرے ساتھ میری ایک بیوی