رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 332
332 دو اور ساتھی بھی تھے جن میں سے ایک مجھے خواب میں خیال پڑتا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم ہیں میں اس وقت تیرتے تیرتے ذرا آگے نکل گیا اور سانس لینے کے لئے میں نے کھڑا ہونا چاہا تو معلوم ہوا کہ پانی بہت ہی گہرا ہے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اگر میں تھک گیا تو آرام کرنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور میں نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ یہاں پانی گہرا ہے اس ہمیں اپنے لئے کوئی رستہ تلاش کرنا چاہئے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوہڑ کا پانی پھیل کر ایک سمندر کی طرح ہو گیا ہے اسے دیکھ کر میرے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ اب ہمیں کنارے کا کیونکر پتہ لگے گا وہ کس طرف ہے جب میں نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ آگے سمندر گہرا ہے ہمیں کسی طرح کنارے کا پتہ لگانا چاہئے تو ان دونوں ساتھیوں نے مجھے تسلی دی اور فوراً مثلث کی شکل میں کھڑے ہو گئے جس مثلث کا ایک سرا میں ہوں اور دوسرے وہ دونوں ساتھی ہیں اور انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ میں اس مثلث کی صورت میں واپس تیرنا شروع کر دوں۔اور اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ہم ویسی ہی تدبیر اختیار کر رہے ہیں جیسا کہ نپولین نے بحرہ احمر میں اختیار کی تھی۔تھوڑی دیر میں ہمارے ایک ساتھی نے آواز دی کہ پایاب پانی آگیا ہے اور اس کی آواز پر ہم دونوں ساتھی اس کی طرف چلے گئے اور تھوڑی دیر میں ہی کنارہ آگیا جہاں با ہر نکل کر ہم بیٹھ گئے اس وقت مجھے یاد آیا کہ ہمارے کچھ ساتھی کنارے پر بھی تھے۔ان میں سے ایک عزیز کے متعلق جس کا نام تو مجھے یاد ہے مگر منذر خواب میں نام بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا میں نے سوال کیا کہ وہ کہاں ہے؟ کسی نے جواب دیا کہ انہیں پاخانہ کی حاجت محسوس ہوئی تھی اس لئے وہ ایک طرف کو گئے تھے۔میں نے کہا بہت دیر ہو گئی ہے۔وہ آئے نہیں اور میں اپنے ساتھیوں کو لے کر ادھر چلا جیسے قادیان کے مغرب میں جنوب کی طرف سے شمال کی طرف جائیں تو آگے ہندو محلہ آتا ہے اسی طرح وہاں میں نے ہندوؤں کی کچھ دکانیں دیکھیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اور شہر ہے جس میں خالص ہند و بستے ہیں میں نے وہاں بہت ساری ہندوؤں کی دکانیں دیکھیں جو اپنی دکانوں پر مختلف قسم کے پکوان پکا رہے ہیں۔ان میں سے ایک شخص کو میں نے پہچانا کہ وہ قادیان میں رہ چکا ہے اور گویا ہندو سے مسلمان ہو چکا ہے میں اس سے پتہ پوچھنے کے لئے آگے بڑھا تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ میں ہوں وہی مگر آپ میرا راز نہ بتائیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے فلاں شخص کہاں ہے اس نے شہر کی