رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 319
319 تعبیر۔فرمایا۔جو شخص مہدی ہو یعنی وہ خود کامل ہدایت پر ہو اس کے دل میں ہر وقت یہ جوش موجزن ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام میں شریک کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ ہادی کہلائے گا۔ایک شخص جس کو اتنی بڑی نعمت مل جائے وہ کس طرح خاموش رہ سکتا ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ تم مہدی ہونے پر اصرار کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ تم اللہ تعالٰی سے یہ اصرار کرنا کہ وہ تحمیل مہدویت کرے۔جب تحمیل مہدویت ہو جائے گی تو تمہارا ہادی ہونا خود بخود ظاہر ہو جائے گا۔الفضل یکم جون 1946ء صفحہ 2۔1 388 مئی 1946ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا۔میں دہلی میں ہوں اور وہاں کی مسجد کے افتتاح کا سوال در پیش ہے اور میں اس کے متعلق سمجھتا ہوں کہ اس جگہ پر مسجد بنانا مناسب نہیں یا اس وقت اس کا افتتاح مناسب نہیں چنانچہ میں نے اپنی رائے کا اظہار دوستوں پر کیا اور کہا کہ ان وجوہ سے میں ابھی افتتاح نہیں کرتا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہلی کی جماعت کو میری اس رائے سے اختلاف ہے اور ان کے اندر نشوز کے آثار پائے جاتے ہیں۔اس کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ ایک جلسہ میں میں افتتاح کا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں جس جگہ ہم جلسہ کرنے والے ہیں اس کا کچھ حصہ چھت ہے اور کچھ حصہ صحن معلوم ہوتا ہے۔خواب میں میں دل میں کہتا ہوں کہ میں افتتاح تو کرلوں گا لیکن ساتھ ہی اپنی ناپسندیدگی کا بھی اظہار کر دوں گا۔جس جگہ میں کھڑا ہوں وہاں پاس ہی ایک چھوٹی سی جھیل ہے جس میں سرکنڈا اگا ہوا ہے میں کھڑا ہوا ہوں اور میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے کہ میں آپ لوگوں کے کہنے پر افتتاح کر دیتا ہوں لیکن اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہے۔اس وقت ایک آدمی کھڑا ہوا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ پیغامیوں میں سے آیا ہے میں اس کی شکل سے پہلے واقف نہیں ہوں تعجب کی بات ہے کہ ہماری جماعت کے جتنے لوگ موجود ہیں میں ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں جانتا اور جتنے لوگ وہاں ہیں میرے لئے سب غیر ہیں ان میں سے ایک شخص جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ پیغامیوں میں سے آیا ہے میری بات پر اعتراض کرتا ہے اور میری بات کی مخالفت کرتا ہے کہ آپ کا یہ خیال غلط ہے کہ اس جگہ مسجد بنانا مناسب نہیں۔اس کا اختلاف مجھ سے معاندانہ نہیں