رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 305
305 377 20۔جنوری 1946ء فرمایا : دوسری رویا میں نے یہ دیکھی کہ ایک مکان ہے جسے میں گھر کی طرح اپنا مکان ہی سمجھتا ہوں۔اس کے بعض کمرے ہمارے گھر کے کمروں کے مشابہ ہیں اور بعض نہیں مگر ایسے کشادہ کمرے ہیں جیسے شاہی قلعوں کے کمرے ہوتے ہیں یا ہال ہوتے ہیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ام طاہر اور امتہ الحی مرحومہ دونوں گھر میں آئی ہوئی ہیں اور حضرت (اماں جان) کے پاس بیٹھی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے حیا کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے دونوں مجھے سے کچھ جھینپتی ہیں۔امتہ الحی مرحومہ تو اتنے میں کھسک کر کسی اور کی طرف چلی گئیں میں نے غالبا ان کو دیکھا نہیں مگرام طاہر کو دیکھا ہے اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ امتہ الھی کہاں ہے۔انہوں نے کچھ ایسا جواب دیا ہے کہ پتہ نہیں کہاں ہے یا یہیں ہوں گی۔اسی قسم کا مشتبہ ساجواب ہے میں امتہ الحی کی تلاش میں گھر کے دوسرے کمروں کی طرف چل پڑا ہوں۔آخر مختلف کمروں میں سے گذرتے ہوئے جو بڑے بڑے وسیع کمرے ہیں میں ایک کمرے میں پہنچا جو کسی زمانے میں امتہ الحی مرحومہ کے کام میں ہی آیا کرتا تھا کمرہ تو وہی معلوم ہوتا ہے لیکن بڑا ہے اور کچھ شکل اس کی بدلی ہوئی ہے وہاں میں نے دیکھا کہ دو چار پائیاں بچھی ہوئی ہیں۔ایک چارپائی پر ایک عورت لیٹی ہوئی ہے جس کا منہ دیوار کی طرف ہے جب میں اس کے قریب گیا تو میں نے سر اور کانوں اور گردن سے پہچانا کہ یہ امتہ الحی ہے مگر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ انہیں سوتے ہوئے جگاؤں دوسری چارپائی پر میں نے اپنی لڑکی امتہ الحکیم کو لیٹے ہوئے دیکھا جب میں امتہ الحی کی طرف گیا تو امتہ الحکیم وہاں سے بھاگ کر دوسرے کمرہ کی طرف چلی گئی۔اس پر میں بھی پاس ہی ایک بڑے ہال کمرہ کی طرف آیا جہاں حضرت اماں جان) بھی ہیں۔ام طاہر بھی ہیں اور گھر کی دوسری عورتیں بھی ہیں میں نے ام طاہر سے کہا کہ تم نے تو مشتبہ جواب دیا تھا مگر میں نے آخر امتہ الھی کو ڈھونڈ لیا۔اتنے عرصہ میں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ امتہ الھی وہاں سے اٹھ کر پھر کہیں ادھر ادھر ہو گئی ہیں۔اس پر میں نے کہا اب امتہ الھی کہاں گئی ہیں تو نہ معلوم ام طاہر نے یا کسی اور نے جواب دیا کہ وہ اپنی اماں کے ہاں ملنے گئی ہیں۔اس پر میں نے کسی کو ان کے پاس بھیجا کہ آیا میں وہاں ملنے کے لئے آجاؤں یا تم یہاں ملنے کے لئے آؤ گی۔اس شخص نے واپس آکر جواب