رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 284

284 دیکھا کہ کوئی شخص ہاتھ میں قلم لئے حضور کے سامنے پیش کر رہا ہے اس کشف کا ذکر حضور نے اس وقت سیدہ ام متین صاحبہ سے کر دیا دوسرے دن یعنی 14 جون کو حضور کی باری مهر آیا سیدہ بشری بیگم صاحبہ کے ہاں تھی صبح کو حضور کے دفتر کی صفائی کرانے کے لئے انہوں نے مکرمہ عائشہ بیگم صاحبہ زوجہ مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا کو دفتر میں بھجوایا اور انہوں نے صفائی کرائی۔صفائی کے دوران ان کو قلم گرا ہوا مل گیا اور مکرمہ عائشہ بیگم صاحبہ نے گم شدہ قلم جو باوجود تلاش کے نہ ملتا تھا اور اس کی بجائے دوسرا قلم خرید کیا گیا تھا صفائی کروا کر واپس آنے کے بعد اسی طرح سیده مهر آپا صاحبہ کے گھر حضور کے سامنے پیش کر دیا جس طرح حضور نے کشف میں دیکھا تھا۔الفضل 16۔جون 1945ء صفحہ 2 355 8 جولائی 1945ء فرمایا : 6 جولائی کو کنری (سندھ) سے مکرم میاں عبدالرحیم احمد صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی کو بذریعہ تار اپنی صاحبزادی کی (جو حضور کی نواسی اور صاحبزادی امتہ الرشید بیگم کی بیٹی ہیں) شدید بیماری کی اطلاع دے کر دعا کی درخواست کی یہ تار 8۔جولائی کو ڈلہوزی میں حضور کو ملا۔حضور نے تار پڑھتے ہی دعا فرمائی اور اس کی پشت پر یہ جواب رقم فرمایا۔میں نے آج خواب میں نوشی (صاحبزادی موصوفہ کا پیار کا نام) کو دیکھا کہ وہ آئی ہے اور مجھے آکر گلے ملی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اسے صحت دے۔بظاہر تو خواب مبارک معلوم ہوتی ہے واللہ اعلم۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صاحبزادی صاحبہ موصوفہ کو صحت بخشی اور بیماری کے سخت حملے سے بچا کر شفا عطا فرمائی اور اس طرح اس کی بیماری سے بھی قبل حضور کو ان کی صحت کی جو بشارت دی گئی تھی وہ پوری ہوئی۔الحمد للہ۔الفضل 8 - ستمبر 1945ء صفحہ 1 356 اوائل اگست 1945ء فرمایا : ایک رات میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے شدید محبت اور عشق کے جذبہ کے ماتحت کہ اس کی نظیر نہیں ملتی مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں کہ اے میرے رب تو مجھے گود میں