رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 280

280 دروازہ ہوتا ہے کہ کھولیں تو کھل جاتا ہے اور چھوڑ دیں تو آپ ہی آپ بند ہو جاتا ہے اس قسم کا دروازہ ہے۔میں نے اس کو سوئی سے دھکا دیا تو وہ کھل گیا اس میں سے گزر کر ہم چوک میں آگئے ہیں چوک میں ایک کمرہ ہے جو بہت وسیع ہے اور اس میں ہیں پچیس کے قریب چار پائیاں آسکتی ہیں اور کچھ چار پائیاں وہاں بچھی ہوئی ہیں ان میں سے دو چار پائیاں شمالاً جنوباً بچھی ہوئی ہیں اور باقی شرقاً غربا بچھی ہوئی ہیں۔ان دو میں سے ایک پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھ گئے ہیں اور ایک پر میں بیٹھ گیا ہوں اور باقی جماعت کے افراد دوسری چارپائیوں پر بیٹھ گئے ہیں جو شرقا غربا بچھی ہوئی ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے چارپائی پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر جہاں تک یاد پڑتا ہے کھڑے ہو کر بڑے جوش سے تقریر شروع کی۔تقریر میں میں نے ایک خاص بات بتائی ہے جس کا اظہار خطبہ میں کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔میں نے جماعت کے جن دوستوں کو بتانا مناسب سمجھا تھا ان کو بلا کر اس دن وہ بات بتادی تھی بہر حال میں نے ایک چیز کی طرف توجہ دلائی ہے جو جماعت کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بار بار میں اس کی اہمیت بیان کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر تم یہ کام نہیں کرو گے تو احمدیت کو نقصان پہنچے گا اور آئندہ اس نقصان کا مٹانا بہت مشکل ہو جائے گا۔اس کے بعد میں نے کہا کہ دیکھو سب کے سب لوگ اس مقصد کو اپنے سامنے رکھ لو اور اس کو سامنے رکھ کر کام کرو اس وقت میں جوش میں آکر یہ آیت پڑھتا ہوں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقرة : 116) کہ اس مقصد کو سامنے رکھ کر تم جدھر بھی منہ کرو گے وہیں اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو گا اس وقت میں نے اس آیت کی ایک ایسی تغیر بیان کی جو جاگتے ہوئے میرے ذہن میں نہیں آئی تھی۔میں نے اس آیت کو پڑھنے کے بعد اسے دہرانا شروع کیا اور تُوَلُّوا کے لفظ پر زور دیا اور جماعت کو توجہ دلائی کہ دیکھو تُوَلُّوا جمع کا لفظ ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تم بحیثیت جماعت جدھر بھی پھرو گے ادھر ہی اللہ تعالیٰ کا منہ ہو گا اور میں کہتا ہوں اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر جماعت کا مقصد ایک ہو تو اس ایک مقصد کو سامنے رکھ کر پھر خواہ اس کے افراد مختلف جہات کی طرف چلے جائیں ان میں تفرقہ پیدا نہیں ہو گا بلکہ وہ بحیثیت قوم کام کرنے والے ہوں گے اور اگر کسی مقصد کے بغیر جماعت ایک طرف بھی چلے تب بھی وہ پراگندہ اور متفرق ہوں گے کیونکہ ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں جیسے ہمارے جلسہ