رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 272
272 میرا پتہ بتا دیا ہے۔پس میں یہ آواز سن کر اس طرف گیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ اہم طاہر ایک اونچی سی چارپائی پر لیٹی ہیں جس پر ویسا ہی موٹا بستر ہے جیسا بیماری کے دنوں میں ہوا کرتا تھا لیکن وہ ہیں تندرست اور صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے ہیں اور چارپائی پر لیٹی ہوئی ہیں۔میں نے کھڑے ہوتے ہی اپنا سر جھکا کر ان کے پیٹ پر رکھ دیا اور میں نے پیار کا کوئی کلمہ کہا جو یاد نہیں کیا تھا۔اس کے جواب میں انہوں نے جھک کر اپنا سر میری کمر کے ساتھ یا کسر پر رکھ دیا اور کہا میرے خالد ایک بات ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ خالد انہوں نے مجھے کہا ہے۔خواب میں میں خیال کرتا ہوں کہ میرے پیار کا شاید انہوں نے غلط مطلب سمجھا ہے اور یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ میرے خالد ایک بات ہے اس سے شاید ان کا منشاء یہ ہے کہ عورتوں کے مخصوص ایام میں سے گزر رہی ہیں لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ شاید یہ بات نہ ہو بلکہ وہ مجھے کوئی بات کہنا چاہتی ہیں اس پر میں نے ان سے سوال کرنا چاہا کہ کیا بات ہے مگر پیشتر اس کے کہ سوال کرتا آنکھ کھل گئی۔خواب کا آخری حصہ اس طرح کا تھا کہ بالکل جاگنے کی حالت معلوم ہوتی تھی اور میرا ان کو چھونا اور ان کا میری کمر کے ساتھ سر لگانا بالکل مادی دنیا کی کیفیت اپنے اندر رکھتا تھا۔آنکھ کھلنے کے بعد میں نے اس رویا کو اپنے دماغ میں دہرانا شروع کیا تا کہ مجھے یاد رہے ابھی میں دہرا ہی رہا تھا کہ معا غنودگی طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ میں لاہور میں ہوں اور اسی گنگا رام ہسپتال میں جہاں ام طاہر فوت ہوئی تھیں۔اُتم طاہر میرے آگے آگے ہیں اور جاتے ہی اسی کمرہ میں داخل ہو گئی ہیں جہاں وہ فوت ہوئی تھیں اتنے میں کوئی شخص غالباً میاں بشیر احمد صاحب میرے سامنے آتے ہیں اور میں ان کو کوئی واقعہ سناتا ہوں اور کہتا ہوں مجھ سے "وہ" کہتے ہیں اور "وہ" سے مراد ایک کمیٹی ہے جس میں میرا خیال ہے کہ ایک میاں شریف احمد صاحب اور عزیزم ناصر احمد صاحب اور ایک دو اور شخص شامل ہیں اور اس کمیٹی کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ میاں شریف احمد صاحب ہیں اور انہوں نے ہی مجھ سے گویا یہ بات کی ہے اور میں اس کا حوالہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس بات کے متعلق مشورہ کر لیا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مشورہ کر لیا ہے۔یہ کہنے کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ عربی میں لکھا ہوا ایک تختہ میرے سامنے آیا میری نظر اس کے درمیانی حصہ پر پڑی وہاں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ پھرای