رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 271

271 مقابلہ میں سورۃ فاتحہ کی جو تفسیر لکھی تھی وہ نیچے ہی کے ایک کمرہ میں لکھی تھی وہ کمرہ اس گلی پر واقع ہے جو پرانے مکان اور میاں بشیر احمد صاحب کے مکان سے ہوتے ہوئے موجودہ دفتر کو جاتی ہے اس مکان کے شمال میں ایک ڈیوڑھی کا کمرہ تھا اور اب بھی ہے درمیان میں دالان اور جنوبی پہلو میں ایک اور چھوٹا کرہ ہے۔دالان اور کمرہ کے سامنے ایک برآمدہ تھا جس کو اب دو ٹکڑے کر کے جنوبی کمرہ کے سامنے ایک اور کمرہ بنا دیا گیا ہے اور دالان کے سامنے کا حصہ صرف برآمدہ کی صورت میں رہ گیا ہے اس زمانہ میں مکان کی حالت اور تھی اب گھر کی ضرورتوں اور آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے مکان کی شکل اور حالت بدل چکی ہے۔مثلا وہ کمرہ تاریخی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعجاز المسح "کتاب لکھی تھی لیکن اب وہاں اسباب پڑا ہے مگر میں نے رویا میں پرانا نظارہ ہی دیکھا تھا میں نے دیکھا کہ گول کمرہ سے کسی ضرورت کے لئے میں پرانے مکان کی طرف آیا ہوں اور میں نے اپنی چھوٹی بیوی بشری بیگم کو آواز دی ہے میرے بلانے پر وہ آئی ہیں لیکن اس وقت وہ بچی معلوم ہوتی ہیں ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی معلوم ہوتی ہے یا کچھ زیادہ۔میں نے ان سے کوئی بات پوچھی ہے تو میری بات کا وہ اس طرح جواب دیتی ہیں جس طرح بچے شرار تا آدھی بات کر کے بھاگ جاتے ہیں اور اس سے ان کا غشاء یہ ہوتا ہے کہ انہیں پکڑا جائے وہ بھی اسی طرح بات کر کے جلدی سے اس دالان کی طرف چلی گئی ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے اور میں بھی ان کے پیچھے گیا ہوں جب میں بر آمدے میں پہنچا تو وہ وہاں سے بھاگ کر جنوب کی طرف اس جگہ چلی گئی ہیں جو مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بر آمدے کا حصہ تھا اور اب وہاں کمرہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ رویا میں دیوار کی جگہ محراب بنا ہوا ہے پہلے وہاں محراب نہیں تھا ساری جگہ برابر تھی مگر رویا میں محراب دیکھتا ہوں تو وہ محراب میں سے گذر کر اندر چلی گئی ہیں اور میں بھی ان کے پیچھے گیا ہوں جب میں ذرا آگے گیا تو اندر سے آواز آئی جیسے انسان پیار سے بچہ کو سرزنش کرتا ہے۔شریر۔مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اہم طاہر کی آواز ہے میں یہ آواز سن کر اس طرف گیا ہوں جدھر سے آواز آئی اس وقت میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ فوت شده۔ہیں۔انہوں نے شریر کا لفظ کہا تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم جو بھاگ کر ادھر آئی ہو اس سے تمہارا یہ منشاء تھا کہ وہ بھی (یعنی میں) ادھر آجائیں جہاں میں لیٹی ہوئی ہوں گویا اس طرح تم نے