رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 23
23 اس رویا میں یہ جو دکھایا گیا ہے کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اسے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رویا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا گیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے۔ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے۔برکات خلافت ( تقریر جلسہ سالانہ 27 - دسمبر 1914ء صفحہ 47745) فروری 1911ء 32 فرمایا : چند دن کا ذکر ہے کہ صبح کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی ہتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمد یہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جاوے اور وسیع کیا جائے۔یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب ہتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا۔اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ ہتھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔( بدر 23 - فروری 1911 صفحہ 2) میں نے سوچا کہ کوئی کسی کے کام میں اسے مدد دیتا ہے تو وہ اس کا دوست اور پیارا بن جاتا ہے تو اگر ہم اس وقت ملائکہ کے کاموں میں مدد کریں گے جو خود اپنی ہی مدد ہے تو ضرور ہے کہ ملا تک کا ہم سے خالص تعلق ہو جائے اور اس تعلق کی وجہ سے خود ہمارے نفوس کی بھی اصلاح