رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 250

250 سے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب والے مکان میں سے ہو کر جاتا ہے اس وجہ سے میں نے میر صاحب مرحوم سے پوچھا کہ میں کس رستہ سے جاؤں۔باہر کے راستہ سے یا اندروالے راستہ سے۔اس پر میر صاحب نے کہا کہ آپ باہر والے راستہ سے آئیں تا اکٹھے ہو کر جائیں۔پیر افتخار احمد صاحب میرے استاد ہیں۔۔۔۔وہ صوفی منش آدمی ہیں اور علیحدگی کو پسند کرتے ہیں اس لئے میرے سامنے بھی بہت کم آتے ہیں۔۔۔۔۔پھر ان کے ہاں دعوت کا ہونا بھی غیر معمولی بات ہے کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی ان کے ہاں دعوت کھائی ہو ان کی طبیعت میں شرم و حیا بہت زیادہ ہے۔پھر ان کی عادت خط و کتابت کی بھی نہیں۔ممکن ہے چار پانچ سال میں وہ کبھی کوئی خط لکھ دیتے ہوں مگر عام طور پر نہیں لکھتے۔لیکن اس خواب کے تیسرے روز بعد ڈلہوزی میں ان کا خط مجھے ملا جو ایک ایسے واقعہ کے بارے میں تھا کہ آج سے چھ ماہ قبل ان کو وہ خط لکھتا چاہئے تھا اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ آپ پر اس انکشاف کے بعد کہ آپ ہی پسر موعود ہیں بہت سے لوگوں کے خواب اس کی تائید میں شائع ہوئے ہیں اس بارہ میں میرا بھی ایک خواب ہے جو میں نے حجاب کی وجہ سے اب تک بیان نہیں کیا اور وہ خواب اس وقت کا ہے کہ جب آپ کی عمرا بھی پانچ چھ سال کی ہی تھی اس وقت میں نے رویا دیکھا جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ یہ لڑکا جب بڑا ہو گا تو یہی پسر موعود ہو گا اور یہ کہ تمہیں بھی اس وقت ان سے فائدہ پہنچے گا۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیر صاحب اس وقت تک زندہ رہیں گے اب ان کی عمر قریباً اتنی سال ہے اور وہ ویسے ہی دبلے پتلے اور کمزور جسم کے آدمی ہیں اور پھر یہ بھی بتایا گیا کہ ان کو ایمان بھی نصیب ہو گا۔الفضل 30۔اگست 1944ء صفحہ 2 320 514 اگست 1944ء فرمایا : دو تین روز بعد میں نے ایک اور رویا دیکھی میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں وہ ایسی جگہ ہے کہ جہاں میں کھڑا ہوں وہاں تو روشنی ہے مگر اس سے آگے اندھیرا ہے اور اس اندھیرے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی احمدی ہے جس کی شکل میں نہیں دیکھ سکتا اور اگر چہ کوئی بات تو نہیں ہوئی مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دو بیویاں ہیں اور ان میں سے ایک کے ساتھ اس کا سلوک اچھا نہیں اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہیں کرتا یہ ساری باتیں میرے