رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 219
219 ہو و اس پر وہ ایسے رنگ میں سر ہلاتا ہے جیسے کہتا ہو ہاں۔اس کے اس فقرہ کے کہنے سے میرے دل میں محبت کا سخت جوش پیدا ہوا اور مجھے افسوس ہوا کہ اس کے متعلق حکومت کی طرف سے جو فتویٰ دیا گیا تھا وہ معلوم ہوتا ہے غلط تھا۔چنانچہ میں اس وقت جوش میں اس کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا ہوں اور بڑے جوش سے کہتا ہوں۔اگر مجھے پتہ ہو تاکہ تم دل سے مسلمان ہو تو میں تمہاری حکومت یہاں قائم کر دیتا پھر مجھے اور جوش پیدا ہوتا ہے اور میں کہتا ہوں اگر مجھے پتہ ہو تاکہ تم دل سے مسلمان ہو تو ہم سارے تمہارے ماتحت آجاتے۔پھر میں اور زیادہ زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم دل سے مسلمان ہو تو ہم تو تمہاری غلامی سے بھی احتراز نہ کرتے۔مگر وہ خاموش رہا اور اس کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔اس کے بعد میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ آہستہ آہستہ اس کے چہرہ میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی اور تھوڑی دیر میں ہی اس کی شکل ام طاہر کی سی بن گئی۔اس وقت میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوا اور میں نے اس کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کی یا اللہ اس کو بچالے۔مجھے اس وقت یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک مرد کی شکل عورت کی شکل میں کس طرح تبدیل ہو گئی اور وہ ام طاہر کی صورت میں۔اس وقت رویا میں معین شکل میں اسے ام ظاہر نہیں سمجھتا لیکن یہ ضرور ہے کہ ام طاہر کی طرح اس کی شکل ہو گئی ہے لیکن پھر بھی خواب میں میرے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات معلوم نہیں ہوتی اس وقت دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں الہی تو ان کی جان بچالے۔اس دعا سے پہلے اس نے کوئی بات نہیں کی سوائے اس پہلے فقرہ کے کہ میری تجهیز و تکفین غیر مذاہب والوں کی طرح نہ کرنا مگر جب میں یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی تو ان کی جان بچالے تو جیسے عورت بعض دفعہ ناز سے ٹھنک کر بات کرتی ہے اسی طرح اس نے ٹھنک کر کہا اوہوں او ہوں۔یعنی یہ کیا دعا کرتے ہو پھر اس نے سر ہلایا جس کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی کے لئے دعا نہ کرو اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کی شکل اُتم طاہر کی شکل میں پوری طرح تبدیل ہو گئی اور جب مجھے معلوم ہو تا ہے کہ یہ ام طاہر ہیں تو میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا خدا تمہاری روح پر فضل نازل کرے تمہاری روح پر برکتیں نازل کرے۔خدا تمہاری روح پر بڑی بڑی رحمتیں نازل کرے اور میں نے دیکھا کہ وہ