رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 218

218 تک سمجھ میں نہیں آئی۔اس رویا سے میرے دل میں بہت افسردگی ہے۔میں نے دیکھا کہ کوئی شخص ہے جو کسی غیر مذہب کا آدمی معلوم ہوتا ہے لیکن جس جگہ پر وہ ہے اس جگہ پر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے احمدیوں کی حکومت ہے اور اس کے متعلق حکومت نے کوئی فیصلہ کیا ہے۔اس شخص نے کوئی سیاسی جرم کیا ہے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اس جرم کی بناء پر حکومت نے اس کے خلاف فیصلہ صادر کیا اور اس کے لئے کوئی سزا تجویز کی ہے جیسے حکومت سے غداری کرنے پر مجرم کو پھانسی یا موت کا حکم دیا جاتا ہے اسے پھانسی کا تو حکم نہیں دیا گیا مگر حکومت کی طرف سے کوئی سزا اس کے لئے ضرور تجویز کی گئی ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ چند لوگوں نے حکومت کی طرف سے اس کو پکڑا ہوا ہے اور وہ اس طرح اس کے پیٹ کی کھال چیر رہے ہیں جس طرح بکرے کی کھال اتاری جاتی ہے اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ شخص جسے سزا مل رہی ہے کہہ رہا ہے (مجھے اس کا فقرہ تو صحیح طور پر یاد نہیں مگر اس کا مفہوم یہ تھا کہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی گورنمنٹ اس پر اعتراض کرے گی۔میں بھی اسی جگہ ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں احمدیوں کی حکومت ہے۔جب اس نے یہ کہا کہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی گورنمنٹ اس پر اعتراض کرے گی تو میں کہتا ہوں یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے یہ جنوبی امریکہ کا علاقہ ہے یہ مراد نہیں کہ سارا جنوبی امریکہ بلکہ مراد یہ ہے کہ جنوبی امریکہ کا کوئی ٹکڑا) اور اس علاقہ پر احمدیوں کی حکومت ہے۔اس کے بعد میں پھر دیکھتا ہوں کہ لوگ اس کے پیٹ کو چیرتے ہیں مگر وہ اسے دائیں طرف سے چیر رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس کی کھال ادھیڑی جا رہی ہے مگر وہ بڑے صبر اور استقلال سے اس تمام تکلیف کو برداشت کر رہا ہے وہ جانتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ میرا پیٹ چاک کر رہے ہیں اس لئے تھوڑی دیر کے بعد ہی میری موت واقع ہو جائے گی چنانچہ وہ اس وقت کہتا ہے۔” میری تجهیز و تکفین غیر مذاہب والوں کی طرح نہ کرنا جب وہ یہ فقرہ کہتا ہے تو مجھ پر سخت کرب کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو کوئی ایسا شخص تھا جو دل سے مسلمان تھا چنانچہ میں اس سے کہتا ہوں ”کیا تم دل میں مسلمان