رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 217
217 کہ میں اٹھ کر ایک اور کرسی لے آؤں اور اسے پہلی کرسی کے ساتھ بچھا دوں۔صرف گھبراہٹ کا اظہار کرتا ہوں کہ اب کیا ہو گا اور جوں جوں وہ کرسی کے قریب پہنچتے چلے جاتے ہیں میری گھبراہٹ بھی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دونوں کرسی کے قریب پہنچ گئے اور دونوں نے اپنے جسم کو ذرا ٹیڑھا کر کے اس کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی تب مجھے اور گھبراہٹ پیدا ہوئی مگر تھوڑی دیر کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے دھڑ ایک دوسرے میں داخل ہونے شروع ہوئے اور جب کرسی پر بیٹھ گئے تو دو نہیں بلکہ ایک ہی وجود نظر آنے لگا۔الفضل 10۔مئی 1944ء صفحہ 4 نیز دیکھیں۔الفضل 30۔جنوری 1945ء صفحہ 5 اور تفسیر کبیر جلد ششم جزو چهارم نصف اول صفحہ 527-528 288 یکم مئی 1944ء فرمایا : تین دن ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی رات میں نے ایک رؤیا دیکھا۔معلوم ہوتا ہے جماعت کے لئے کوئی ابتلاء مقدر ہے مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے کسی جگہ احمدیوں کا اجتماع ہے جلسہ تو میں نے نہیں دیکھا اور کوئی تقریر ہوتے بھی نہیں دیکھی مگر احمد یوں کا ایک جگہ پر اجتماع نظر آیا۔پھر میں نے دیکھا کہ کسی جگہ پر غیر احمدی بہت بڑی تعداد میں جمع ہیں اور ان کا بڑا و سیع ہجوم ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ غیر احمدی حملہ آور ہوئے ہیں اور ہماری جماعت کے افراد اتنے کمزور اور اس قدر بے تیاری کے ہیں کہ انہوں نے حملہ کر کے ان کو مغلوب کر لیا ہے اور انہیں مارا پیٹا ہے۔بعد میں معلوم ہوا ہے کہ کچھ عورتیں بھی احمدیوں کے اجتماع میں تھیں۔اس وقت مجھ سے بعض نے بیان کیا کہ ان کی لاتوں پر سوٹیاں ماری گئی ہیں۔فرمایا : میں نے اس رویا میں دیکھا کہ میں تو اس جگہ سے جو قادیان کے مغرب میں جنوب کی طرف مائل علاقہ میں ہے خیریت سے واپس آگیا ہوں مگر باقی لوگ جو پیچھے آئے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کو لوگوں نے مارا ہے۔الفضل 11۔مئی 1944 ء صفحہ 1 289 4۔مئی 1944ء فرمایا : آج رات میں نے ایک اور رویا دیکھی جو عجیب قسم کی ہے کہ اس کی تعبیر اس وقت