رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 207

207 نماز پڑھی اور پھر فرمایا لاؤ سحری کھالیں میں اس وقت دل میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اگلے جہان چلے گئے تھے ہمیں کیا پتہ تھا کہ انہوں نے بھی روزہ رکھنا ہے اور ان کے لئے سحری تیار کرنا ضروری ہے مگر آپ کے اس کہنے پر میں نے فوراً اپنا کھانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے رکھ دیا اور خود چپ کر کے بیٹھ گیا تا کہ آپ کو پتہ نہ لگے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سحری کھائی اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 10۔مئی 1944ء صفحہ 5 11۔اپریل 1944ء 274 فرمایا : پرسوں میں نے ایک عجیب رویا دیکھا اسی دن میں نے اپنے بغلوں کے بال صاف کئے تھے مگر رات کو رویا میں میں نے دیکھا کہ میں اپنی بغلوں میں ہاتھ لگاتا ہوں تو مجھے وہاں اچھے لمبے بال نظر آتے ہیں رویا میں میں کہتا ہوں کہ میں نے تو آج ہی بغلوں کے بال صاف کئے تھے معلوم ہو تا ہے استرا نا قص تھا کہ بال صاف نہیں ہوئے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ بال صاف ہو گئے ہوں گے مگر وہ ابھی لمبے لمبے ہیں۔فرمایا : میں نے تعبیر نامہ منگوا کر دیکھا تو اس میں لکھا تھا اگر کوئی شخص دیکھے کہ بغلوں کے بال بڑے بڑے ہیں تو اس کا مقصد پورا ہو جائے گا اسی طرح لکھا تھا جو شخص یہ خواب دیکھے اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ وہ صحیح دین پر قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے سخاوت کی توفیق ملتی ہے ( تعطیر الانام) الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحہ 2 275 12۔اپریل 1944ء فرمایا : آج صبح جب میں اٹھا تو میرے دل پر الہامی طور پر یہ فقرہ جاری تھا جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں یہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا یہ الہام میرے قلب پر بار بار نازل ہوا اور بارہا اسے دہرایا گیا۔الفضل 129اپریل 1944ء صفحہ 21