رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 206

206 271 9۔اپریل 1944ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا۔ایک نوجوان میرے سامنے آیا ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے آپ صبح کی نماز میں کیوں نہیں آتے۔میں نے اسے بتایا کہ میں تو اس وجہ سے نہیں آتا کہ صبح کے وقت مجھے اتنا ضعف ہوتا ہے کہ میں کھڑا ہو کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا بلکہ بیٹھ کر پڑھتا ہوں بلکہ میں نے کہا مجھ سے بعض دفعہ وضو بھی نہیں ہو سکتا اور تیسم سے نماز پڑھنی پڑتی ہے۔ممکن ہے ہماری جماعت میں سے کسی شخص کے دل میں میرے متعلق ایسا خیال پیدا ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے کشفی طور پر یہ نظارہ مجھے دکھا دیا ہو۔الفضل 14 اپریل 1944ء صفحہ 3 272 ریل 1944ء فرمایا : ایک دفعہ میں اس امر کے متعلق تجارب کر رہا تھا کہ علم توجہ کے ماتحت کس طرح دو سروں پر اثر ڈالا جاتا ہے اسی دوران میں ایک تجربہ سانس کے متعلق بھی آگیا۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ جہاں آجکل حضرت اماں جان رہتی ہیں وہاں میں موجود ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اوپر کی منزل پر سے ایک کھڑکی میں سے جھانک رہے ہیں اور فرماتے ہیں محمود یہ نہیں کرنا اس سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے۔الفضل 10 مئی 1944ء صفحہ 5 نیز دیکھیں۔الفضل 4۔مئی 1960ء صفحہ 3 273 ایریل 1944ء فرمایا : ایک دفعہ رویا میں میں نے دیکھا کہ رمضان کے ایام ہیں۔مجھے اب یاد نہیں کہ اس وقت رمضان کا ہی مہینہ تھایا کوئی اور مہینہ تھا غالب خیال یہی ہے کہ رمضان کا مہینہ نہیں تھا مگر مجھے رویا میں ایسا محسوس ہوا کہ گویا رمضان کا مہینہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی وہیں ہیں اور پاس ہی چار پائی پر ہماری والدہ صاحبہ ہیں اس وقت رویا میں میں اپنی عمر بڑی ہی سمجھتا ہوں مگر ہم سب اسی طرح اکٹھے ہیں جیسے ماں باپ سو رہے ہیں تو ان کے پاس بچوں کی بھی چار پائیاں ہوتی ہیں۔اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگئے۔آپ نے تہجد کی