رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 185
185 ہوش آیا تو میں نے سنا کہ ڈاکٹر میرے متعلق امتہ الحکیم سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ بہت بے ہوش پڑے ہیں یا شاید یہ تھا کہ مرگئے ہیں میں اس کی تردید کرنا چاہتا ہوں مگر ڈاکٹر مجھے کہتا ہے کہ آپ بولیں نہیں تھوڑی دیر کے بعد مجھے پتہ لگتا ہے کہ امتہ الحکیم کو سخت چوٹ آئی ہے اور ڈاکٹر اسے صدمہ پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ ایک بڑے صدمہ کا ذکر سن کر طبیعت چھوٹے صدمہ کا مقابلہ کرے اور اسے ہوش آ جائے اس کے بعد اسے ہوش آ جاتی ہے اور میں اسے بچے کی طرح گود میں اٹھا کر مکان کے کٹہرے کے پاس لے گیا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ نظارہ دیکھو سامنے دریا نظر آ رہا ہے اس وقت میں خواب میں امتہ الحکیم سے یہ بھی کہتا ہوں کہ دیکھو۔میں نے تمہاری خاطر جھوٹ بولا۔جھوٹ تو ڈاکٹر نے بولا تھا مگر چونکہ میں اس وقت ڈاکٹر کے کہنے پر خاموش رہا اس لئے میں امتہ الحکیم سے مذاقا کہتا ہوں کہ تمہاری خاطر مجھے جھوٹ بولنا پڑا اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا امتہ الحکیم چھوٹی سی ہو گئی ہے اور میں نے اسے گود میں اٹھالیا ہے اور مکان کے کٹہرے میں لے جاکر میں اسے کہتا ہوں کہ وہ سامنے دریا کا نظارہ دیکھو اس کے بعد مجھے ملکہ کا نظارہ دکھایا گیا۔فرمایا شاید اس کی والدہ ام طاہر کی وفات کے متعلق تھی کیونکہ گاڑی ٹکرانے سے صدمہ عظیم مراد ہوتا ہے اور مجھے اور امتہ الحکیم سلمہا اللہ تعالیٰ کو سخت چوٹ آنے سے یہی مراد تھی کہ ہم دونوں کو سخت صدمہ ہوگا چونکہ بچوں میں سے زیادہ صدمہ اسی کو ہوا ہے اور بچوں کی طرح اسے اٹھا لینے کی بھی یہی تعبیر ہے کہ ماں کی وفات کی وجہ سے مجھے ہی اس کی پوری طرح دلداری کرنی ہوگی اور اس کا سب بوجھ مجھ پر آپڑے گا یہ رویا ڈلہوزی میں 8۔ستمبر کو آئی تھی اور اس وقت دوستوں کو سنادی گئی تھی۔الفضل 20۔اپریل 1944ء صفحہ 3 252 دسمبر 1943ء فرمایا : میں نے جلسہ سے دو چار دن پہلے ایک رؤیا دیکھا تھا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ہماری جماعت کے ایک نوجوان جو پہلے قادیان میں ہی پڑھا کرتے تھے اور جن کا نام عبد الحمید ہے آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا۔میں ان سے کہتا ہوں کہ تم کہاں؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔