رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 186
186 اس رویا سے میں سمجھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا فعل صادر ہو گا جس کی بناء پر اس کی حمد کرنے کی ہمارے دلوں میں تحریک ہو گی۔الفضل 5۔اپریل 1944 ء صفحہ 2 253 6/5 جنوری 1944ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں کچھ عمارتیں ہیں نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یا ٹرنچز ہیں بہر حال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونسی مجھے ان سے تعلق ہے میں ان کے پاس ہوں۔اتنے میں مجھے یہ معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں بر سر پیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اس نے اس مقام پر حملہ کر دیا ہے اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی اس کا مجھے اس وقت کوئی خیال نہیں آیا بہر حال وہاں جو فوج تھی اس کو جرمنوں سے دینا پڑا اور اس مقام کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گئی جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جرمن اس عمارت میں داخل ہو گئے جس میں میں تھا تب میں خواب میں کہتا ہوں دشمن کی جگہ پر رہنا درست نہیں اور یہ مناسب نہیں کہ اب اس جگہ ٹھرا جائے یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہئے اس وقت رویا میں صرف یہی نہیں کہ تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہیں اور جب میں نے دوڑنا شروع کیا تو رویا میں مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میں انسانی مقدرت سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑ رہا ہوں اور کوئی ایسی زبر دست طاقت مجھے تیزی سے لے جارہی ہے کہ میلوں میں ایک آن میں میں طے کرتا جا رہا ہوں۔اس وقت میرے ساتھیوں کو بھی دوڑنے کی ایسی ہی طاقت دی گئی مگر پھر بھی وہ مجھ سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور میرے پیچھے ہی جرمن فوج کے سپاہی میری گرفتاری کے لئے دوڑتے ہیں مگر شاید ایک منٹ بھی نہیں گزرا ہو گا کہ مجھے رویا میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جرمن سپاہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں چلتا چلا جاتا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ زمین میرے پاؤں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ میں ایک ایسے علاقہ میں پہنچا ہوں جو دامن کوہ کہلانے کا مستحق ہے ہاں جس وقت جرمن فوج نے حملہ کیا