رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 184
184 کی طرف بڑھا اور ان سے کہا کہ یہ وقت بھاگنے کا نہیں اس وقت ملکہ کی حفاظت تمہارا اولین فرض ہے فوراً واپس لوٹو اور جرمن سپاہیوں اور ملکہ کے درمیان صفیں باندھ لو تاکہ ملکہ کی گاڑی کو دریا عبور کرنے کا موقع مل جائے۔اور میں ان کے آگے کھڑا ہو کر ان کو دوڑنے سے روکتا ہوں اور واپس جانے پر مجبور کرتا ہوں آخر وہ میری بات سے متاثر ہو جاتے ہیں اور بڑے جوش سے دریا میں کود کر اس کو عبور کرتے ہیں ملکہ مکرمہ کی گاڑی اور جرمن فوج کے درمیان میں کھڑے ہو جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں کو چبان کو گاڑی دریا کے پار کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب ملکہ محفوظ ہو گئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خبر ایک بجلی کی طرح ساری برٹش ایمپائر میں پھیل گئی ہے کہ ملکہ دریا کے پار ہو گئی ہے اور جرمن سپاہی اس کو پکڑ نہیں سکے اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں سب ملکوں کی آواز سن سکتا ہوں اور میں نے سنا انگلستان ، آسٹریلیا، کینیڈا افریقہ سب جگہ کے برطانوی باشندے خوشی سے تالیاں پیٹ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب انگریزی قوم جیت گئی اور جرمن ہار گئے اس وقت خواب میں مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ اس احساس سے کہ میری طاقت سے یہ تغیر ہوا ہے میں نے بھی بے تحاشا تالی پیٹ دی لیکن ایک دو دفعہ ہاتھ پر ہاتھ مارنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں غلطی کر رہا ہوں اور ہاتھ کو روک دیا۔پہلے خیال تھا کہ میرا یہ رویا انزیو (Anzio) میں پورا ہو گیا ہے وہاں انگریزی فوج اس طرح پیچھے ہٹی ہے اور وہاں ایک سمندر کا بھی اخبار میں ذکر آتا ہے مگر میرے ایک عزیز نے اس طرف توجہ دلائی کہ ممکن ہے گذشتہ دنوں برما میں جو ایک انگریزی فوج گھر گئی تھی اس کی طرف اشارہ ہو لارڈ مونٹ بیٹن ملکہ کے بھائی برما میں انگریزی افواج کے کمانڈر انچیف ہیں ممکن ہے اس نسبت سے ملکہ مکرمہ کو دکھایا گیا ہو یا ممکن ہے کسی اور واقعہ کا اس رویا میں ذکر ہو جو ابھی پورا ہونے والا ہے۔الفضل 20 - اپریل 1944ء صفحہ 3-2 251 8 ستمبر 1943ء فرمایا : پہلے میں نے یہ نظارہ دیکھا تھا کہ میں ایک گاڑی پر سوار ہوں اور امتہ الحکیم میری لڑکی میرے ساتھ ہے وہ گاڑی ایسی ہے جیسے ہلکا سا گڑا ہو تا ہے مگر بیٹھنے والی گاڑی کی طرز ہے ہم چلے آرہے ہیں کہ راستہ میں وہ گاڑی کسی چیز سے ٹکرائی اور ہم کو سخت چوٹیں آئیں جب مجھے