رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 183

183 کھلی ہے وہاں انگریزی فوج موجود ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بادشاہ اور ملکہ بھی اسی جگہ ہیں۔اتنے میں وہاں جرمنوں نے شدید گولہ باری شروع کر دی اور اس قدر گولہ باری کی کہ انگریزی فوج نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور وہ جگہ زیادہ سے زیادہ تنگ ہوتی چلی گئی پہلے مثلاً چودہ میل کا راستہ تھا پھر سات میل پر آگئے اور پھر اور پیچھے ہٹ کر تین میل پر آگئے غرض اسی طرح وہ پیچھے ہٹتے چلے آئے۔میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایک دریا بھی ہے وہاں میں کھڑا ہوں اور یہ تمام نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔اس وقت مجھے خواب میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انگلستان کا ریڈیو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اس واقعہ کی خبریں براڈ کاسٹ کرتا چلا جا رہا ہے اور میں بھی اس کی آواز سن رہا ہوں وہ بتاتا ہے کہ سخت گولہ باری ہو رہی ہے اور انگریزی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے اب اور جگہ تنگ ہو گئی ہے شاہی خاندان کو سخت خطرہ پیش آگیا ہے اور ہم حیران ہیں کہ اسے وہاں سے کس طرح نکالیں جوں جوں ریڈیو پر یہ خبریں بیان کی جاتی ہیں مجھے ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ غیبی طور پر مجھے ایسی قوت عطا کی گئی ہے جس سے میں صرف خبریں ہی نہیں سنتا بلکہ لڑائی کا تمام نظارہ بھی دیکھتا چلا جاتا ہوں اس کے بعد یکدم مجھے ریڈیو پر کوئی شخص یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ اب کوئی صورت حال نظر نہیں آتی جس سے کام لے کر شاہی خاندان کو نکالا جا سکے۔میں اس وقت سمجھتا ہوں شاید ہمارے بادشاہ کسی چیز کے معائنہ کے لئے گئے تھے اور وہاں دشمنوں کے نرغہ میں پھنس گئے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ انگریزی فوج شکست کھا کر بھاگی ہے اور دریا کے پار جہاں میں کھڑا ہوں اسی طرف سپاہی بھاگ کر آرہے ہیں اور میرے دونوں طرف سے بھاگے جا رہے ہیں اتنے میں مجھے اور شور سنائی دیا اور ایک گھوڑا گاڑی بھی دیکھی جس میں ملکہ مکرمہ سوار ہیں وہ دریا جس کے کنارے پر میں کھڑا ہوں پہاڑی طرز کا ہے جیسے کسی پہاڑ کے درے میں سے نکل کر آتا ہے میں نے ملکہ مکرمہ کی گاڑی کو اسی درے میں سے آتے ہوئے دیکھا۔کو چبان شدت جوش کی وجہ سے کھڑا ہوا ہے اور کوڑے پر کو ڑا گھوڑوں پر برسا رہا ہے اور گھوڑے بے تحاشا بھاگ رہے ہیں اور گاڑی کے پیچھے مبارز یعنی جر من گھڑ چڑھے ہتھیار لگائے ہوئے تعاقب کر رہے ہیں۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ اس گاڑی میں ملکہ سوار ہے اگر ان کو دشمن نے گرفتار کر لیا تو انگریزی حکومت پھر جرمنی کا مقابلہ نہ کر سکے گی اس لئے جس طرح ہو ملکہ کو بچانا چاہئے۔یہ خیال آتے ہی میں بھاگتے ہوئے سپاہیوں