رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 182

182 249 جولائی 1943ء فرمایا : اٹلی پر جب انگریزی حملہ ہوا تو اس سے ایک دن پہلے رویا میں میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں اور وہاں پاس ہی ایک دوسرا ملک نظر آتا ہے جو بہت لمبا سا ہے وہاں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کھڑے ہیں اور بڑے زور و شور سے انگریزوں کی مدد کے لئے فوج میں بھرتی ہونے کے متعلق تقریر کر رہے ہیں۔خواب میں میں کہتا ہوں کہ مولوی عبد الکریم صاحب تو فوت ہو چکے ہیں معلوم ہوتا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لی ہوگی کہ میں لوگوں کے سامنے بھرتی کے متعلق تقریر کروں اور اس اجازت کے بعد وہ تقریر کر رہے ہیں غرض وہ بڑے زور شور سے تقریر کر رہے ہیں۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس علاقہ کے ایک چوک سے فوج سے بھری ہوئی لاریاں اتنی کثرت سے دوسرے ملک میں داخل ہونی شروع ہو گئیں کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ ان لاریوں سے تمام جو بھر گیا ہے بے تحاشا ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری موٹر دوڑتی چلی جاتی ہے اس خواب کے دوسرے دن ہی اخبارات میں یہ اطلاع شائع ہو گئی کہ انگریزوں نے اٹلی پر حملہ کر دیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ تین چار دن کے بعد انگلستان کے اخبار ”ٹائمز کا ایک فقرہ ”سول" وغیرہ انگریزی اخبارات میں نقل کیا گیا کہ جس طرح فوجوں سے بھری ہوئی لاریاں اٹلی میں داخل ہوئی ہیں اس کا اگر کسی نے اندازہ لگانا ہو تو وہ لنڈن کے کسی چوک کا اندازہ لگالے جب وہاں موٹریں اور لاریاں کسی وجہ سے رک جاتی ہیں تو اجازت ملنے پر کس طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتی چلی جاتی ہیں جو حالت ایسے موقع پر لنڈن کے کسی چوک میں موٹروں اور لاریوں کی کثرت اور ان کے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے کی ہوتی ہے اس کو اگر کئی سو گنا بڑھا کر سوچے تو وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ اٹلی میں ہماری فوجوں سے بھری ہوئی لاریاں کس کثرت اور کتنی بڑی تیزی کے ساتھ داخل ہوئیں۔الفضل 12۔اکتوبر 1943ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔الفضل 20 اپریل 1944 ء صفحہ 2 و 25۔جون 1944ء صفحہ 1 - 250 ستمبر 1943ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک تنگ سی جگہ ہے جو پیچھے سے تو زیادہ تنگ ہے مگر آگے کسی قدر