رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 181
181 آئندہ کے لئے سکیم بنانے کے لئے ہے۔دس بارہ گز ہٹ کر میں بھی کھڑا ہوں اور گفتگو سن رہا ہوں ایشیائی حکومت کا نمائندہ اس مغربی طاقت کے نمائندہ کو بتاتا ہے کہ ہمارے ملک کے فلاں فلاں علاقوں میں فلاں یورپین ملک کی فوجیں موجود ہیں جسے ہم پسند نہیں کرتے ہمارا ملک آزاد ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس کی فوجیں وہاں موجود رہیں اس پر وہ یورپین حکومت کا نمائندہ پوچھتا ہے کہ کیا تم نے اس پر احتجاج نہیں کیا تمہیں چاہئے تھا کہ اس پر احتجاج کرتے۔وہ جواب دیتا ہے کہ ہم نے احتجاج تو کیا ہے مگر وہ حکومت جواب دیتی ہے کہ یہ فوجیں ہم نے تمہارے فائدہ کے لئے رکھی ہیں جب وہ یہ بات بیان کرتا ہے تو مغربی حکومت کا نمائندہ حقارت کے ساتھ مسکراتا ہے جس کا مطلب گویا یہ ہے کہ کیسا بیوقوفی کا جواب ہے اسے کون مان سکتا ہے اس موقع پر وہ ایشیائی حکومت کا سردار اس سے کہتا ہے کہ میں نے ان سے (مجھ سے) بھی مشورہ لیا ہے اور انہوں نے (یہ) مشورہ دیا ہے مگر مجھے پھر پتہ نہیں کہ اس نے کیا بتایا کہ اس نے کیا مشورہ پوچھا تھا اور میں نے کیا دیا اس پر اس مغربی حکومت کے نمائندہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ اچھا ان سے بھی تم نے مشورہ لیا ہے پھر وہ آپس میں بحث کرتے ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اس وقت میں صورت حالات کو پوری طرح معلوم کر کے گھبراتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ ہمیں بھی اب کسی اقدام کی ضرورت ہے۔جو نسی یہ خیال میرے دل میں آتا ہے ایک صورت میرے ساتھ نمودار ہوتی ہے جو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ ہے اور وہ کہتا ہے ” دعا سے کام لیتا ہی اچھا ہے آخر وقت تو معلوم ہو گیا ہے اور میں معا خیال کرتا ہوں کہ در حقیقت دعا سے کام لینا ہی اچھا ہے۔اس رویا کے بعض حصے ہیں جو میں نے بیان نہیں کئے اور ان سے بعض دوسرے حصوں کی تشریح ہو جاتی ہے بہر حال جو باتیں بتائی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ بعض فتنے بہت زیادہ خطر ناک آنے والے ہیں اور وہ اسلام کے لئے بہت زیادہ مضر ہوں گے۔مگر یہ ہمارے بس کی بات نہیں جیسا کہ رویا میں فرشتہ نے بتایا ہے دعا سے کام لیتا ہی اچھا ہے یہ جو کہا ہے کہ آخر وقت تو معلوم ہو گیا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ ابھی وقت ہے اور دعا کی قبولیت کا موقع ہے۔الفضل 14 اپریل 1943ء صفحہ 3 - 4 نیز دیکھیں۔الفضل 2 لومبر 1945 ء صفحہ 1 -'