رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 180
180 دوسری رات بستر پر لیٹنے پر معا مجھے خیال آیا کہ یہ مسٹر گاندھی کے متعلق معلوم ہوتا ہے اور یہ خیال اس قدر زور پکڑ گیا کہ میں نے اسی وقت تار میں انہیں پیغام کی طرف توجہ دلائی جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔الفضل 5۔مارچ 1943ء صفحہ 1 ابریل 1943ء 248 فرمایا : اسی سفر (سفر سندھ) میں میں نے ایک رویا دیکھا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ جنگ ابھی کئی شکلیں تبدیل کرنے والی ہے جن میں سے بعض شکلیں اسلام کے لئے بہت خطر ناک ہوں گی اس قسم کے اور رویا میں نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر میں ان کو دو الگ الگ واقعات نہ سمجھتا تھا لیکن اس رویا نے بتا دیا ہے کہ وہ ایک واقعہ کی دو شکلیں نہیں بلکہ آگے پیچھے آنے والے الگ الگ واقعات ہیں اس تازہ رویا کو میں عام طور پر بیان نہیں کر سکتا اور شاید اس کا بیان کرنا حکومت کی مصلحت کے خلاف ہو اشارہ صرف اتنا بتا تا ہوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ یورپ کی دو طاقتیں ہیں اور ایک ایشیائی طاقت اور ایشیائی طاقت کا سردار * ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ اس کے ملکی معاملات کے بارہ میں میرا مشورہ بھی مفید ہو سکتا ہے یا شاید اسے احمدیت سے کوئی دلچسپی ہے وہ اپنے ملک کے حالات بیان کر کے مجھ سے مشورہ پوچھتا ہے کہ ان حالات میں ہم کیا کریں میں نے اسے کوئی مشورہ دیا ہے مگریہ یاد نہیں کہ اس نے کیا پوچھا اور میں نے کیا بتایا صرف اتنا احساس ہے کہ اس نے کوئی مشورہ پوچھا ہے اور میں نے دیا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ ان دو یورپین حکومتوں میں سے ایک کے نمائندہ اور اسی ایشیائی حکومت کے سردار کے درمیان کمیٹی ہوئی ہے دونوں جمع ہوئے ہیں کہ صورت حالات پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا کارروائی کرنی چاہئے۔میں بھی وہاں گیا ہوں اور پرے ہٹ کر کھڑا ہوں اس مغربی طاقت کا نمائندہ ایک کھلے میدان میں کسی پتھر پر یا ایسی کرسی یا کوچ پر جس کی پشت نہیں بیٹھا ہے اور ایشیائی حکومت کا سردار کھڑا ہے اور اس سے بات کرتا ہے کہ ہمارے ملک کے یہ حالات ہیں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اجتماع کسی معاہدہ کی بات چیت کرنے کے لئے یا خواب میں معلوم نہیں ہوا کہ وہ کون ہے گو بعد میں میں نے جنرل چیانگ کائی شیک ہی سمجھا " الفضل 2 - نومبر 45 ء صفحہ 1