رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 609

609 { چنانچہ سب سے پہلے میں نے بدھ مذہب میں جو خدا تعالیٰ کا تصور پایا جاتا ہے وہ ان کے سامنے بیان کیا اور اس پر ایک تقریر کی صبح کے وقت میں نے اپنی اس رویا پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے تصور کے الفاظ اختصار اً بولے گئے ہیں ورنہ اس سے مراد خد اتعالیٰ سے ملنے کا تصور تھا چنانچہ میں نے ان کے سامنے جو تقریر کی وہ یہ تھی کہ دیکھو مچھلی پانی میں رہتی ہے لیکن اس پانی پر جو سورج کی شعاعیں گرتی ہیں یا دریا میں بہنے والی ریت کے ذرات سے جو چمک پیدا ہوتی ہے وہ آہستہ آہستہ مچھلی پر ایسا اثر ڈالتی ہے کہ اس پر جانے پڑ جاتے ہیں در حقیقت یہ جانے اس لئے ہوتے ہیں کہ دیر تک اس پر ریت کی چمک اور سورج کی شعاعوں کا اثر ہو تا رہتا ہے اور آخر اس کے جسم پر بھی ویسی ہی چمک آجاتی ہے اگر سنہری ریت ہو تو یہ جانے سنہری بن جاتے ہیں چنانچہ کئی مچھلیوں پر میں نے خود سنہری رنگ کے جانے دیکھے ہیں بلکہ بعض دفعہ ان پر سات سات آٹھ آٹھ رنگ کے جانے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ تو ایسے نیلے رنگ کا چانہ ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ فیروزہ ہے پھر میں کہتا ہوں دیکھو جسم پر جو ایک کثیف چیز ہے اگر اس اتصال کے نتیجہ میں دوسری چیزوں کا اثر قبول کر لیتا ہے تو روح جو ایک نہایت ہی لطیف چیز ہے وہ کیوں اثر قبول نہیں کرے گی پھر میں دوسرے مذاہب پر اسلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ دیکھو مذ ہب نے صرف یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ سے اتصال پیدا ہو سکتا ہے مگر اتصال پیدا کرنے کا طریق اس نے نہیں بتایا اور جو بتایا ہے وہ اتنا لمبا ہے کہ انسان کے لئے اس پر عمل ممکن نہیں وہ کہتے ہیں کہ بدھ ساٹھ سال تک اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے ایک جنگل میں بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا رہا اور خدا تعالیٰ کی عبادت اور ذکر الہی میں اتنا محو ہوا کہ اس کے نیچے سے ایک درخت نکلا جو اس کے جسم کو چیرتا ہوا سر سے نکل گیا اور اسے پتہ تک نہ لگا اب یہ ایک لایعنی سی بات ہے جسے عقل قبول نہیں کر سکتی لیکن اسلام نے نہ صرف وصال الہی کا تصور بیان کیا ہے بلکہ وہ رستہ بھی بتایا ہے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے مثلا بدھ نے دعا کی قبولیت پر کوئی زور نہیں دیا صرف نروانا پر زور دیا ہے یعنی اس نے کہا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو نکال دے حالانکہ خدا تعالیٰ کے قرب کی خواہش بھی تو ایک خواہش ہے اگر خواہشات کو نکالے گا تو یہ خواہش کیسے باقی رہ سکتی ہے۔الفضل 18 جون 1958ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم صفحہ 384 - 383 وہ سب