رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 567

567 موعود علیہ السلام کا کوئی بے تکلف سا نام لے کر ہیرو یا بہادر (جو کئی دن تک یاد رہا لیکن اب بھول گیا ہے) کہنے لگا کہ شاید وہ نماز پڑھ لیتے ہوں گے اس کے بعد اس نے کہا کہ انہوں نے یہ بتایا تھا کہ ایک لڑکا میری طرح ہو گا اور پھر اس نے میری طرف اشارہ کر کے جب کہ میں اس مجلس سے پرے جا رہا تھا کہا دیکھو جوں جوں ان کی عمر بڑی ہوتی جاتی ہے اس کی طرز حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملتی جاتی ہے پھر کہا دیکھو ان کے کندھے اسی طرح کے ہیں ان کی چال اسی طرح کی ہے مجھے اس شخص کے اس قول سے بہت تکلیف ہوئی کہ شاید مرزا صاحب نماز پڑھ لیتے ہوں گے گو یہ بچپن کے زمانہ کے متعلق بات تھی میں اسی بات پر سوچتا چلا جاتا تھا کہ سڑک کا موڑ آیا اور سڑک مڑکر اسی طرف لوٹ گئی جس طرف سے وہ آ رہی تھی اس موڑ پر چلتے ہی میں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک سراڑ تا آرہا ہے اس کے ساتھ دھڑ نہیں تھا وہ اس طرح اڑ کر آرہا تھا جیسے ستارے اڑتے ہیں چہرہ انسانی تھا مگر بہت بڑا۔چار پانچ انسانی چہرے ملالئے جائیں تو ان کے برابر۔میں نے جب اس پر نظر ڈالی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ تھا چہرہ کے دائرہ کے ارد گرد کی ڈھال اور شکن اس طرز کے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ رحم اور محبت کو کھینچ رہے ہیں میں نے یہ دیکھتے ہی کہا کہ یہ شخص تو جب بھی خدا تعالیٰ کے سامنے جاتا ہو گا معاً اس کے فضل اور اس کی محبت کو کھینچ لیتا ہو گا۔الفضل 16۔دسمبر 1954ء صفحہ 2 598 11/10۔دسمبر 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ سارہ بیگم مرحومہ گھر پر آئی ہیں میں کہیں باہر سے گھر میں آیا ہوں تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ سارہ بیگم آگئیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں وہ روٹھ کر چلی گئی تھیں اسی قسم کا نظارہ میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں) میں نے دیکھا کہ دو آیا اچھے لباس میں جیسے کہ انگریزی گھروں میں آیا ہوتی تھیں آئیں اور ان میں سے ایک آیا نے ایک بچہ اٹھایا ہوا ہے اچھے اجلے رنگ کا فربہ خوش شکل ، بڑی بڑی آنکھوں والا بچہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارہ بیگم کا بچہ ہے جس آیا نے بچہ اٹھایا ہوا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بات مجھ سے کرنا چاہتی ہے مگر دوسری آیا نے اشارہ کر کے اس کو وہاں سے ہٹا دیا اس کے بعد میں اس کمرہ کی طرف چلا گیا جہاں میرا خیال تھا کہ وہ ہیں۔راستہ میں مجھے کسی نے بتایا کہ وہ تو سامنے والے مکان کے چوبارہ میں چلی گئی