رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 527

527 پڑتے ہی مجھے کچھ حیاسی محسوس ہوئی کہ یہ کہیں گے کہ میرا نام انہوں نے غلط لیا ہے یعنی ساتھ ہی میں خیال کرتا ہوں کہ ان کا نام رحیم بخش بھی ہے غلط نام میں نے نہیں لیا نواب صاحب نے میرے ساتھ کچھ بات شروع کر دی اور میرے ساتھ میدان میں ٹہلنا شروع کر دیا اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ اسلام پر جو اعتراضات ہوتے ہیں یا جو نئے نئے عقدے مسلمانوں کے لئے پیش آتے ہیں ان کے جواب کے لئے بڑی وقت ہوتی ہے میرے ساتھ کئی دفعہ لوگوں نے گفتگو کی کہ اس کے لئے کون سے لٹریچر کی ضرورت ہے تو میں نے ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا ہے کہ ان ساری باتوں کا جواب تفسیر کبیر میں آجاتا ہے اور جس کا اس وقت تک جواب نہیں آیا اس کا اگلے حصوں میں آجائے گا پس مجھے تو اس کتاب سے سارے جواب مل جاتے ہیں اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا سے ایک تو میں سمجھتا ہوں کہ اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جماعت میں بعض افراد خواہ مخواہ دو سروں پر بد ظنی کرلیتے ہیں کہ وہ ہمارے دشمن ہیں احراری ، جماعت اسلامی یا ان کے چیلے چانٹے جو ہیں ان کو چھوڑ کر باقی مسلمانوں میں اکثریت شرفاء اور نیک لوگوں کی ہے ہماری طرف توجہ کریں یا نہ کریں یہ اور بات ہے ورنہ فطرتا وہ سلیم لوگ ہیں اور ہمیں بجائے ان سے قطع تعلق کرنے کے اپنا تعلق بڑھانا چاہئے۔تعلق بڑھانے سے ان کو ہمارے حالات معلوم ہوں گے اور ہمیں ان کے حالات معلوم ہوں گے اور ایک دوسرے کی بد ظنیاں دور ہوں گی اور ایک دوسرے کی نیکیاں معلوم ہوں گی۔دوسری بات ذاتی طور پر نواب محمد دین صاحب کے خاندان کے متعلق معلوم ہوتی ہے شاید اللہ تعالیٰ چوہدری محمد شریف صاحب اور ان کے خاندان سے رحیمیت کا معاملہ کرے۔تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں تفسیر کبیر مقبول ہے اور اگر اس کے فضل سے مزید حصے شائع کرنے کی توفیق ملی تو ان میں بھی اسلام کی مضبوطی اور اس کے کمالات کے ثبوت کا بہت سا مواد انشاء اللہ تعالیٰ مہیا ہو جائے گا۔الفضل 18۔نومبر 1952ء صفحہ 4 - 3 دسمبر 1952ء 564 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ کوئی تحریر میرے سامنے پیش کی گئی ہے اور اس میں یہ ذکر