رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 512

512 ہونا پڑتا تھا میں جب اس مکان کے پاس پہنچا جس کو گول کمرہ کہتے ہیں اور جو موجودہ دفتر سے پہلے میرا دفتر ہوا کرتا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کمرے کے پاس کی کوٹھڑی میں چھوٹی چھوٹی چوکیاں لگی ہوئی ہیں اور ان پر چائے کا سامان کیک اور پیسٹریاں وغیرہ پر تکلف سامان پڑا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ یہاں ہمارے گھر کے لوگوں کو ناشتہ کروا دیا گیا ہے مگر میں نے وہاں آدمی کوئی نہیں دیکھا۔کھانے کی چیزیں بہت سی پڑی ہیں لیکن پیالیاں وغیرہ مستعمل معلوم ہوتی ہیں جیسا کہ لوگ ناشتہ کر چکے ہیں لیکن فوراً اس کمرہ سے نکل کر مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھ کر گھر میں گیا ہوں وہاں جا کر میں نے سب لوگوں سے کہا کہ دیر ہو گئی ہے۔دو کے یا تین کہے کہ اتنے بیچ گئے ہیں بٹالہ میں ہم نے جا کر گاڑی پر سوار ہوتا ہے اور تم لوگ دیر کر رہے ہو اس پر انہوں نے تیاری شروع کی میں نے ان سے پوچھا کہ کیا جانے کے لئے سواریوں کا بھی انتظام ہے انہوں نے جواب دیا کہ چھ رتھیں ہم نے تیار کی ہیں میں نے کہا رتھ تو تین سے پانچ گھنٹے تک پہنچتی ہے اس سواری پر تو رات ہو جائے گی مگر انہوں نے کہا یہی رتھیں ہماری پرانی موجود تھیں انہیں میں ہم نے انتظام کیا ہے گویا خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم قادیان میں ہوتے تھے تو ہماری بہت ی رتھیں ہوتی تھیں گو ظاہر میں ایسا نہیں تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت ایک رتھ ہمارے گھر میں تھی بعد میں وہ بھی فروخت کر دی گئی تھی۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 3 551 جون 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی عمارت ہے جو سرائے کی طرز سے ملتی ہے یعنی بیچ میں بہت بڑا صحن ہے اور چاروں طرف عمارت ہے وہ اتنی بڑی عمارت ہے کہ ایک طرف تو الگ رہا۔بیچ میں کھڑا ہوا آدمی بھی چاروں طرف عمارت کے پاس کھڑے ہوئے آدمیوں کو پہچان نہیں سکتا۔میں اس عمارت میں داخل ہو کر گوشے کی طرف بڑھنا شروع ہوا ہوں گویا سمجھتا ہوں کہ حضرت اماں جان) یہاں رہتی ہیں اس گوشے کی دونوں طرف کمرے ہیں جو باورچی خانہ کے کمرے معلوم ہوتے ہیں اور بڑے بڑے دیگچے کھانا پکانے کے لئے رکھے ہوئے ہیں جیسے سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کی دعوت ہوتی ہے اور بہت سی عورتیں جن کو میں پہچانتا نہیں عمدہ