رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 475

475 ہاتھوں سے اوپر کے جفتے کو پکڑتا ہے تو اس سیڑھی میں ایسی لچک پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کئی فٹ اوپر چڑھ جاتا ہے اور وہاں وہ ایک اور جفتے پر اپنے پیر رکھ دیتا ہے اور اس سے اوپر کے جفتے کو پکڑ لیتا ہے اس طرح چند جھٹکوں میں وہ چھت پر چڑھ جاتا ہے۔جہاں تک میرا علم ہے ایسی سیڑھی آج تک ایجاد تو نہیں ہوئی لیکن عقل ضرور کہتی ہے کہ ایسی سیڑھی ایجاد کی جاسکتی ہے کمرے بھی بہت بڑے بڑے اور وسیع ہیں ساٹھ ستر فٹ کے چوڑے اور سو سو ڈیڑھ ڈیڑھ سوفٹ کے لیے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مستورات مہمانوں کا انتظام تو اس گھر میں کیا گیا ہے اور مرد مہمانوں کا باہر انتظام کیا گیا ہے۔اس گھر کو جاتے وقت بہت سے مرد مجھے ملے جو مہمان کے طور پر آئے ہوئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بہت تھوڑے مہمان آئے ہیں۔بہت سے مہمان ابھی آنے باقی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شوق محبت میں لوگ دیوانہ وار چاروں طرف سے کھنچے چلے آتے ہیں۔میں اس نظارہ سے متاثر ہو کر مکان کے اندر یہ دیکھنے کے لئے کہ عورتوں کے لئے کیا انتظام ہوا ہے مختلف کمروں میں پھرا ہوں۔وہاں میں نے دیکھا کہ مختلف جگہوں کی عورتیں آئی ہوئی ہیں اور کمروں کے مختلف حصوں میں اپنی جگہیں بنا رہی ہیں کسی نے کہا کہ مرد کم آئے ہیں میں نے کہا۔نہیں۔یہاں تو تمہیں عورتیں ہی نظر آتی ہیں۔مرد با ہر ہیں اور ابھی چاروں طرف سے لوگ آرہے ہیں۔ایک عجیب خوشی کی لہر احمد یوں میں پھیل رہی ہے اور اس خوشی میں کوئی تسبیح کے کلمے کہہ رہا ہے۔کوئی تحمید کے کلمے کہہ رہا ہے اور کوئی شعر پڑھ رہا ہے۔نیچے کے کمروں کو دیکھ کر میں نے اوپر کے کمروں کی طرف جانا چاہا اور اس وقت میں نے وہ سیڑھی دیکھی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کوئی سوفٹ کے قریب اونچی سیڑھی ہے جو مچلی منزل سے اوپر کی منزل کی طرف جاتی ہے اس کے ربڑ کے جفتوں پر جب میں نے پیر رکھ کر ذرا پیر کو دبایا تو یکدم اس سیڑھی نے مجھے اٹھانا شروع کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ میں اوپر پہنچ گیا۔وہاں بھی کچھ نظارہ میں نے دیکھا جو کچھ عرصہ تک تو مجھے یاد رہا لیکن خواب لکھوانے میں چونکہ دیر ہو گئی اس لئے اب وہ مجھے یاد نہیں رہا۔الفضل 15۔جون 1951 ء صفحہ 3 522 جون 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں گویا قادیان گیا ہوں اور وہاں سے پھر آگے پٹھانکوٹ وغیرہ کے علاقوں کی طرف بھی میں گیا ہوں وہاں میں نے دیکھا کہ کچھ مسلمان موجود ہیں وہ گو جر ہیں یا