رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 474
474 520 جون 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات اور مسجد اقصیٰ کے درمیان میں سلسلہ کے لئے کچھ عمارت بنوا رہا ہوں۔جتنا فاصلہ مسجد اقصیٰ اور ان مکانات کے درمیان میں ہے اس سے فاصلہ بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے اور درمیانی زمین دس پندرہ یا ہیں ایکٹر کی معلوم ہوتی ہے۔اس تمام زمین میں بنیادیں کھو دی ہوئی ہیں اور جس طرح یورپ اور امریکہ میں بہت بڑے بڑے فلیٹس ہوتے ہیں اسی طرز کی عمارت کا کوئی نقشہ معلوم ہوتا ہے اسی جگہ پر سینکڑوں یا ہزاروں کمروں کی بنیادیں کھدی ہوئی معلوم ہوتی ہیں اور عمارت کی بنیاد میں زمین سے اوپر تک آچکی ہیں عمارت کا مصالحہ نہایت قیمتی ہے اور وہ سیمنٹ یا پتھر کا معلوم ہوتا ہے۔میں ایک جگہ کھڑا ہوا اس وسیع عمارت کے اوپر جو تیار ہو رہی ہے نظر ڈالتا ہوں کہ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 15۔جون 1951ء صفحہ 3 521 جون 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا حکومت پاکستان کی معرفت ہم نے قادیان میں جلسہ کرنے کی اجازت لی ہے اور ہندوستان کی گورنمنٹ نے ہم کو دس بارہ دنوں کے لئے قادیان جانے کی اجازت دیدی ہے اور ہندوستان اور پاکستان سے احمدی بڑے جوش سے وہاں جمع ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والے مکان میں ہم ٹھرے ہوئے ہیں لیکن وہ مکان بہت وسیع ہو چکا ہے اس کی چوٹی بہت ہی بلند چلی گئی ہے اور اس کی کئی منزلیں ہیں لیکن منزلیں اتنی زیادہ نہیں جتنی کہ اس کی چھتوں کی بلندی۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہر کمرہ کی چھت پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ ستر سترفٹ اونچی ہے اور ایک منزل سے دوسری منزل تک جانا کار دارد ہے۔سیڑھیوں کی تکلیف سے بچنے کے لئے لفٹ کی طرح کی ایک چیز جو میں نے اس دنیا میں نہ دیکھی ہے نہ سنی بنائی گئی ہے۔ربڑ کابنا ہوا ایک موٹا سا کپڑا ترپالوں کی طرز کا اس مکان کی سیڑھیوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور اس میں اس طرح بڑے بڑے جفتے ڈالے گئے ہیں جس طرح اکار ڈین باجے (ہارمونیم) میں ہوتے ہیں اور ڈھلوان کی طرز پر وہ فرش سے لے کر چھت تک کھینچا گیا ہے۔جب آدمی اس کے ایک جفتے پر پیر رکھتا ہے اور